صبح کی دھوپ پارک کی راہوں پر چھن رہی تھی اور ہوا میں خوشبو کے ساتھ امید کے لمس گھل رہے تھے۔ بیجنگ کی صبحیں اب اجنبی نہیں رہیں۔ درختوں پر لگے سرخ فانوس جیسے خوشی کے چھوٹے چھوٹے خواب ہوا میں جھولتے ہیں، اور راستوں پر چلتے لوگ اپنے دن کی تیز رفتار داستانوں میں گم۔ مگر ایک صبح میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے میری سوچ کے دھارے بدل دیے ‘‘میریج مارکیٹ’’۔
یہ ایک عام پارک تھا، مگر اس دن وہاں انسان نہیں، جیسے ‘‘امیدیں’’ ٹہل رہی تھیں۔ درختوں کے نیچے سفید کاغذوں کی قطاریں لگی تھیں۔ ان پر نام نہیں، جیسے تعارف کے تراشے تھے۔عمر، قد، تعلیم، آمدنی، اور اپارٹمنٹ کی تفصیل۔ ہر صفحہ ایک خواہش کا اشتہار تھا۔ میں ایک گوشے میں کھڑی سب دیکھتی رہی۔
چین کے بزرگ والدین، اپنے ہاتھوں میں رنگین فولڈر تھامے، ایک انجانی سنجیدگی کے ساتھ چل پھر رہے تھے۔ ان کی نظریں جیسے کاغذوں سے زیادہ خوابوں کو پڑھ رہی تھیں۔ کہیں ایک ماں کسی دوسرے باپ سے پوچھتی،
‘‘آپ کی بیٹی کا کام کہاں ہے؟’’
اور جواب آتا،
‘‘بینک میں، مگر اب تک شادی نہیں ہوئی۔’’
ان کے لہجوں میں نہ طنز تھا، نہ حسرت ، بس ایک ذمہ داری کا احساس۔ جیسے شادی صرف دو دلوں کا نہیں بلکہ دو نسلوں کی تسکین کا معاملہ ہو۔ میں نے ایک بزرگ خاتون کو دیکھا جو بار بار اپنے بیٹے کا پروفائل سیدھا کر رہی تھیں، جیسے کسی نایاب خزانے کی نمائش ہو۔ ان کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو ہماری ماؤں کے چہروں پر ‘‘رشتہ دیکھنے’’ کے موقع پر ہوتی ہے۔
میں نے سوچا، رشتے تلاش کرنے کا انداز بدل جاتا ہے، مگر انسان کی تنہائی کا درد شاید ہر زبان میں ایک سا ہوتا ہے۔ بیجنگ کے اس پارک میں، جہاں ہر درخت پر ہوا بجتی تھی، میں نے محسوس کیا کہ محبت اب بھی ایک تلاش ہے۔بس طریقے بدل گئے ہیں۔
ایک نوجوان لڑکی، شاید کسی والدین کی ‘‘پیش کش’’ بننے سے تنگ، ایک طرف بینچ پر بیٹھی موبائل پر مسکرا رہی تھی۔ شاید کسی دوست سے بات کر رہی تھی، یا کسی ایسے انسان سے جو ان فہرستوں سے آزاد ہو۔ میں نے دل میں کہا
‘‘محبت کاغذ پر نہیں لکھی جاتی، وہ تو نظر کے ایک لمحے میں جنم لیتی ہے۔’’
شنگھائی یا بیجنگ ہو، لاہور یا کراچی ، دلوں کی زبان ایک ہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں رشتے پراپرٹی، آمدنی اور ڈگریوں کے درمیان تولے جاتے ہیں۔ میں نے دل میں سوچا
‘‘محبت اب بھی زندہ ہے، مگر شاید وہ بھی کسی فائل میں محفوظ ہو گئی ہے۔’’
پارک کے درختوں کے نیچے کھڑے وہ لوگ، جن کے چہرے وقت اور خواہش کے درمیان کہیں ٹھہرے تھے، مجھے ایسے لگے جیسے کسی پرانی نظم کے مصرعے ہوں۔ ادھورے مگر خوبصورت۔
مگر کیا ان پارکوں میں لگنے والی ‘‘میریج مارکیٹ’’ سے ہونے والی شادیاں کامیاب بھی ہوتی ہیں؟
چینی تاریخ کے اوراق کھولیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت نئی نہیں۔ صدیوں پہلے، جب بادشاہوں کا زمانہ تھا، تب بھی رشتوں کا بندھن خاندانی وقار، دولت اور سماجی مرتبے کی بنیاد پر باندھا جاتا تھا۔ مگر جدید دور میں یہ ‘‘میریج مارکیٹ’’ تقریباً انیس سو نوّے کی دہائی میں دوبارہ اْبھر کر سامنے آئی۔جب شہروں کی زندگی تیز ہوئی، مگر تنہائی نے دلوں کو آہستہ آہستہ گھیر لیا۔
آج بھی ہر ہفتے کے آخر میں سینکڑوں والدین اپنے بچوں کے تعارف کے پوسٹر لیے پارکوں میں آتے ہیں۔ میں نے کئی بار انہی میں بیٹھ کر دیکھا۔ کوئی ماں فخر سے بیٹی کی ماسٹرز ڈگری کا ذکر کرتی ہے، کوئی باپ بیٹے کی سالانہ آمدنی پر زور دیتا ہے۔ اور میں دل ہی دل میں سوچتی ہوں۔ محبت کب سے حساب کتاب بن گئی؟
ایک بار میری ملاقات ایک چینی خاتون سے ہوئی۔ لی چن۔ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں ‘‘میری شادی بھی اسی مارکیٹ سے طے ہوئی تھی۔ پہلے تو اجنبی تھے، مگر اب وہ میرا بہترین دوست ہے۔’’
میں نے حیرت سے پوچھا، ‘‘کیا تمہیں یہ رشتہ پسند تھا؟’’
وہ مسکرا کر بولی: ‘‘پسند بعد میں آتی ہے، پہلے ذمہ داری آتی ہے۔’’
یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا۔ شاید ان الفاظ کی کامیابی اسی فلسفے میں چھپی ہے۔ یہاں محبت کو پیدا کیا جاتا ہے، تلاش نہیں کیا جاتا۔
چینی معاشرے میں شادی صرف دو افراد نہیں بلکہ دو خاندانوں کا معاہدہ سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے ان رشتوں میں برداشت، صبر، اور سماجی ہم آہنگی زیادہ نظر آتی ہے۔
لیکن پھر بھی، ہر شادی کہانی نہیں بنتی۔ کچھ جوڑے ایک دوسرے کے ‘‘پروفائل’’ کے حساب سے تو مل جاتے ہیں، مگر دل کے حساب سے نہیں۔ ایسے لوگ وقت کے ساتھ الگ راستے اختیار کر لیتے ہیں۔
میں نے ایک چینی دوست سے پوچھا ‘‘کامیاب شادی کیا ہوتی ہے؟’’
وہ ہنسی، ‘‘کامیاب شادی وہ ہے جو نبھ جائے، چاہے محبت بعد میں پیدا ہو۔’’
میں سوچنے لگی۔ ہمارے ہاں بھی تو اکثر یہی ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم خواب سے رشتہ شروع کرتے ہیں، اور وہ رشتہ بنا کر خواب تلاش کرتے ہیں۔
چین کی ‘‘میریج مارکیٹ’’ وقت کی دھول میں ڈھلتی ایک قدیم روایت ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں انسانی ضرورت اور تنہائی کا سچ چھپا ہے۔شاید اس پارک کے درختوں کے نیچے صرف رشتے نہیں بنتے، بلکہ کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ کہانیاں ان لوگوں کی جو محبت کو قسمت نہیں، فرض سمجھ کر نبھاتے ہیں۔
بیجنگ کی خزاں اس برس کچھ اور ہی رنگ لے کر آئی ہے۔ درختوں سے گرتے پتے جیسے وقت کے پرانے فیصلے ہوں، جو ہر سال بدلتے نہیں، بس نئے موسم میں دوبارہ دہرائے جاتے ہیں۔ اسی موسم میں، ایک شام، میں اپنی چینی دوست می لی سے ملی۔ اس کی آنکھوں میں اداسی تھی، مگر لبوں پر ایک ہلکی سی خود اعتمادی کی مسکراہٹ۔
چائے کے کپ کے ساتھ اس نے کہا، ‘‘میں اب تیس برس کی ہو گئی ہوں، اور میرے والدین فکر مند ہیں۔ وہ کہتے ہیں، اگر اب شادی نہ کی تو میں ‘Sheng Nü’ بن جاؤں گی یعنی ‘بچ جانے والی عورت’ ’’
میں نے چونک کر پوچھا، ‘‘یہ اصطلاح اتنی عام ہے؟’’
وہ ہنس دی، مگر وہ ہنسی خالی تھی۔ بولی، ‘‘ہاں، ٹی وی، اخبارات، حتیٰ کہ دفاتر میں بھی لوگ ایسے الفاظ بول دیتے ہیں، جیسے عورت کی زندگی کا مقصد صرف شادی ہو۔’’
اس کے الفاظ میرے دل میں اتر گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ ‘‘Leftover Women’’ صرف ایک معاشرتی اصطلاح نہیں بلکہ ایک دباؤ، ایک احساسِ جرم ہے جو ان تعلیم یافتہ، خودمختار خواتین کے کندھوں پر رکھا گیا ہے۔
میں نے کئی چینی خواتین کو دیکھا۔اعلیٰ تعلیم یافتہ، اچھی نوکریوں والی، مگر دل میں ایک انجانا خوف چھپا ہوا۔ خوف اس بات کا کہ معاشرہ ان کے فیصلے کو قبول نہیں کرے گا۔
یہ وہی ملک ہے جہاں چند دہائیاں پہلے ایک بچے کی پالیسی نے لڑکیوں کے وجود کو کم کر دیا تھا، اور اب وہی معاشرہ کہتا ہے کہ عورتوں کو شادی کرنی چاہیے تاکہ آبادی کا توازن بحال ہو۔ وقت کے تضاد نے عورت کو ایک سماجی علامت بنا دیا ہے۔ کبھی ضرورت، کبھی ذمہ داری۔
میں نے ‘‘می لی’’ سے پوچھا، ‘‘کیا تم شادی نہیں کرنا چاہتیں؟’’
اس نے آہستہ سے کہا، ‘‘شادی چاہتی ہوں، مگر اپنی شرطوں پر۔ میں کسی کے لیے اپنی پہچان نہیں کھونا چاہتی۔’’
اس کے لہجے میں وہی عزم تھا جو ہمارے ہاں کسی شاعرہ کے مصرعے میں چھلکتا ہے۔
میں نے سوچا، شاید یہ خواتین ‘‘بچ’’ نہیں گئیں، بلکہ رک گئیں، سوچنے کے لیے، جینے کے لیے، خود کو پہچاننے کے لیے۔
ہم اکثر انہیں تنہا سمجھتے ہیں، مگر دراصل وہی عورتیں سب سے مضبوط ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگی کی باگیں خود سنبھالی ہیں۔
اس شام پارک کی روشنیوں میں چلتی می لی کے قدموں میں ایک نرمی تھی، مگر اس کے وجود میں پختگی کا وزن۔ میں نے دل میں سوچا
‘‘یہ عورتیں باقی نہیں رہ گئیں، یہ آگے بڑھ گئی ہیں۔ ان کے خواب اب کسی کے نام پر نہیں، اپنے وجود پر لکھے ہیں۔’’
بیجنگ کی رات کے آسمان پر جھلملاتے فانوسوں کے بیچ میں، میں نے محسوس کیا کہ عورت کی آزادی کا سفر کہیں بھی آسان نہیں۔ مگر چین ہو یا پاکستان جب عورت خود کو مان لیتی ہے، تب ہی وہ دنیا سے سچ مچ جیت جاتی ہے۔
مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ محبت یہاں اب ایک نئی زبان بولتی ہے۔وہ زبان جس کے الفاظ ڈیجیٹل ہیں، اور احساسات تھوڑے خاموش۔
ایک دن میں اپنی چینی دوست ژو یانگ کے ساتھ چائے پی رہی تھی۔ وہ انجینئر ہے، مگر باتوں میں شاعرہ لگتی ہے۔
کہنے لگی، ‘‘محبت اب یہاں آسان نہیں رہی۔ ہم سب اپنے خوابوں میں اتنے مصروف ہیں کہ کسی کے دل کی دستک سننے کا وقت ہی نہیں۔’’
میں نے مسکرا کر کہا، ‘‘تو کیا محبت ختم ہو گئی؟’’
وہ بولی، ‘‘نہیں، وہ بدل گئی ہے۔ پہلے لوگ کسی کے ساتھ جینا چاہتے تھے، اب کوئی ایسا چاہتے ہیں جو ان کے ساتھ چل سکے۔’’
میں نے محسوس کیا کہ چینی معاشرہ، جو کبھی روایتوں کی دیواروں میں بند تھا، اب رفتہ رفتہ احساس کی نئی شکلیں تراش رہا ہے۔
یہاں کے نوجوان اب شادی کو ‘‘ضرورت’’ نہیں بلکہ ‘‘انتخاب’’ سمجھنے لگے ہیں کچھ اب بھی والدین کی مرضی کے آگے سر جھکاتے ہیں، مگر کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں۔ ‘‘میں اس سے شادی نہیں کر سکتا جسے میں جانتا نہیں، چاہے وہ کتنا ہی مناسب کیوں نہ ہو۔’’
چینی مردوں میں ایک نرمی ہے، مگر ساتھ ہی ایک عجیب سی الجھن بھی۔
وہ جانتے ہیں کہ عورتیں اب خودمختار ہو چکی ہیں، مگر ان کے دل اب بھی روایتی تربیت کے قیدی ہیں۔
میں نے ایک نوجوان سے پوچھا، ‘‘تم شادی کیوں نہیں کرتے؟’’
وہ مسکرا کر بولا، ‘‘کیونکہ میں اب ایسی لڑکی چاہتا ہوں جو مجھ سے نہیں، میرے جیسی ہو۔’’
یہ جملہ میرے دل میں دیر تک گونجتا رہا۔
یہی فرق شاید آج کے چین اور کل کے چین میں ہے۔اب یہاں محبت ‘‘مکمل ہونے’’ کے لیے نہیں، بلکہ ‘‘ایک ساتھ بہتر بننے’’ کے لیے کی جاتی ہے۔
میں اکثر سوچتی ہوں۔ ہم پاکستانی عورتیں محبت کو خواب سمجھ کر پوجتی ہیں، اور چینی عورتیں محبت کو حقیقت مان کر پرکھتی ہیں۔
یہاں کے لوگ کم بولتے ہیں، مگر عمل میں محبت کا انداز رکھتے ہیں۔
کسی کے لیے بارش میں چھتری تھام لینا، یا چپ چاپ کسی کے لیے گرم چائے رکھ دینا۔ یہ ان کی خاموش محبت کے طریقے ہیں۔
رات کے وقت، جب میں اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوں،
تو نیون لائٹس میں چلتے جوڑوں کو دیکھ کر محسوس کرتی ہوں کہ محبت اب بھی زندہ ہے، بس وہ پہلے جیسی شور مچانے والی نہیں رہی —
اب وہ خاموش، سمجھدار، اور تھوڑی سی تنہا ہو گئی ہے۔
محبت چین میں اب ایک سادہ فقرہ نہیں رہی۔ یہ اب ایک انتخاب ہے، ایک سمجھوتہ بھی، اور ایک سفر بھی۔ بالکل ویسا جیسے ہم سب کا اپنا سفر۔
اب مجھے بیجنگ کی گلیاں اجنبی نہیں لگتیں، اور یہاں کے چہرے اب کتابوں کے کردار نہیں کہانیاں لگتے ہیں۔
مگر ان کہانیوں میں ایک خاموشی ہے، جو میں ہر جگہ محسوس کرتی ہوں۔
یہ وہی خاموشی ہے جو چین کی ‘‘One-Child Policy’’ نے نسلوں کے دلوں میں بو دی ہے۔
میں نے پہلی بار اس پالیسی کے بارے میں سنا تو حیران ہوئی۔ ایک ایسا ملک جہاں ہزاروں سال سے خاندان، نسل اور وارثت کو سب سے
بڑی نعمت سمجھا جاتا تھا، وہاں حکومت نے 1979 میں اعلان کیا کہ ہر جوڑے کو صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت ہوگی۔
وجہ سادہ تھی۔ بڑھتی ہوئی آبادی، وسائل کی کمی، اور مستقبل کا خوف۔
لیکن وقت کے ساتھ یہ فیصلہ زندگی کی ساخت بدل گیا۔
یہاںایک چینی دوست، ‘‘چن یو’’، اکثر کہتا ہے کہ ‘‘میں اکلوتا ہوں۔ بچپن میں جب بھی بیمار ہوتا، ماں روتی تھی کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو وہ اکیلی رہ جائے گی۔’’
اس کے لہجے میں دکھ نہیں، ایک تھکن تھی۔
ایسا دکھ جو شاید صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو والدین کی واحد امید ہو۔
میں نے دیکھا کہ یہاں کے بیشتر نوجوانوں پر ذمہ داری کا بوجھ ان کی عمر سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اپنے والدین، دادا دادی سب کے واحد سہارا ہیں۔ان کے چہروں پر اعتماد ہے، مگر دل کے اندر ایک خوف کہ اگر وہ ناکام ہوئے، تو پورا خاندان ٹوٹ جائے گا۔
اسی پالیسی نے معاشرتی توازن بھی بدل دیا۔
بہت سے خاندانوں نے بیٹے کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں آج چین میں خواتین کی کمی نمایاں ہے۔
یہی وہ سماجی دباؤ ہے جس نے ‘‘Marriage Market’’ اور ‘‘Leftover Women’’ جیسے تصورات کو جنم دیا۔
یوں لگتا ہے جیسے ایک فیصلے نے محبت، شادی اور خاندانی زندگی کے سارے زاویے بدل ڈالے۔
2015 میں حکومت نے یہ پالیسی ختم کر دی، اب دو بلکہ تین بچوں کی اجازت ہے مگر سوچ بدلنے میں نسلیں لگتی ہیں۔
میں نے کئی چینی خواتین کو کہتے سنا ‘‘ہم آزاد ہیں، مگر اب بچے پیدا کرنا ذمے داری نہیں، انتخاب ہے۔’’ یہ جملہ بتاتا ہے کہ پابندی نے سوچ کو آزاد کر دیا۔
ایک شام میں اپنے اپارٹمنٹ کی بالکنی سے شہر کو دیکھ رہی تھی۔
سڑکوں پر ہلکی بارش، روشنیوں میں بھیگی ہوئی ہوا، اور کہیں دور ایک بچہ قہقہہ لگا رہا تھا۔ میں نے سوچا، شاید یہی وہ نئی نسل ہے جو ماضی کے بوجھ سے ہلکی ہے، جو محبت اور زندگی کو نئی تعریفوں میں ڈھالے گی۔
میں نے اپنے سفرنامے کے نوٹس کا اختتام کرتے ہوئے سوچ رہی ہوں کہ انسان جب اپنی خواہشات کو نظم دیتا ہے، تو کبھی کبھی اپنے احساسات کو قید کر لیتا ہے۔
ایک بچے کی پالیسی نے چین کو منظم تو کر دیا، مگر اس کی روح میں ایک اکیلے پن کا سناٹا چھوڑ دیا ایسا سناٹا جو شاید آنے والے برسوں تک گونجتا رہے گا۔اب یہ پالیسی ختم ہو چکی ہے، حکومت نے دو اور پھر تین بچوں کی اجازت دے دی ہے، مگر اس کے اثرات ابھی تک ذہنوں میں زندہ ہیں۔
کچھ لوگوں کے لیے آزادی آ گئی ہے، مگر ان کے دل اب بھی اس خاموش نظم کے عادی ہو چکے ہیں۔لگتا ہے جیسے پالیسی ختم ہوئی نہیں بس
شکل بدل گئی ہے، اور زندگی کے اندر کہیں دبی ہوئی اب بھی سانس لے رہی ہے۔’’
میں جانتی ہوں کہ میرا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ہر نیا دن یہاں ایک نیا باب ہے۔کسی اجنبی کی مسکراہٹ، کسی دوست کی گفتگو، یا کسی پرانی عمارت کے سائے میں گزرا لمحہ۔ چین میرے لیے اب ایک ملک نہیں رہا،یہ ایک جیتی جاگتی داستان ہے جس میں میں خود ایک کردار ہوں،
اور شاید کچھ کہانیاں ابھی لکھی جانی باقی ہیں۔






