پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر سونے کی قیمت 53 ہزار 200 روپے بڑھ گئی۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2023 میں ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 220000روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 30779روپے تھی جو دسمبر 2024 تک مہنگا ہوکر ہو کر 2 لاکھ 73 ہزار 200 روپے ہوگئی۔سونے کی مقامی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ملک کو درپیش زرمبادلہ کے بحران، اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رحجان اور معیشت کی سنگین صورتحال کی وجہ سے غیریقینی کیفیت شامل رہی۔خیال رہے کہ دو سال کے دوران مجموعی طور پر سونے کی فی تولہ قیمت میں مجموعی طور پر 78 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں سال 2023 کے دوران بھی سالانہ بنیادوں پر سونے کی قیمت 35 ہزار 900 روپے اضافہ ہوا تھا۔واضح رہے کہ سونے کی صنعت میں سب سے زیادہ بااثر تنظیم ورلڈ گولڈ کونسل نے اپنے 2024 کے آوٹ لک رپورٹ میں پہلے ہی واضح کیا تھا کہ 65 فیصد امکان ہے کہ 2024 میں امریکی معیشت سست روی یا سافٹ لینڈنگ کا تجربہ کرے گی۔ اگر ایسا ہوا تو سونے کی مانگ الٹرا پوٹینشل کے ساتھ فلیٹ ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا٭پاکستانی روپے کی قدرگزشتہ ایک دہائی سے مسلسل گر رہی ہے تاہم سال 2024 میں روپے کی قدر مجموعی طور پر مستحکم رہی۔گزشتہ سال نگران حکومت آنے کے بعد انٹربینک میں ڈالر ریکارڈ 307 روپے اور اوپن مارکیٹ کا بھا 328 روپے تک پہنچ گیا تھا لیکن پھر حکومت اور سرکاری اداروں کی انتطامی کوششوں نے روپے کی گرتی قدر کو بحال کیا۔روں سال کے آغاز میں انٹربینک میں ڈالر 281 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 283 روپے پر تھا جبکہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام تک انٹربینک میں ڈالر کی قدر 278 روپے 47 پیسے رہی۔رواں سال کے دوران مجموعی طور پر ڈالر کی قدر میں 3 روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ وزارت خزانہ کے اکنامک اپ ڈیٹ آوٹ لک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 ماہ کے دوران ڈالر کی قدر میں 4 روپے کمی ہوگئی ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق عالمی حالات، بیرونی ادائیگیوں کا دبا، ملکی سیاسی صورتحال اور زرمبادلہ کی قلت روپے کو سال کے دوران گرانے کی وجوہات رہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ 15 مہینوں سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، اور یہ گزشتہ نو مہینوں سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں 277 سے 288 کی سطح پر مستحکم ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے ترسیلات زر بڑھ رہی ہیں، جس کا ثبوت کرنٹ اکانٹ میں مالی سال 25 پانچ ماہ کے دوران 944 ملین ڈالر کی اضافی رقم آنا ہے، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون سے اگست 2024 کے دوران انٹربینک مارکیٹ سے 1.9 ارب ڈالر خریدے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر موجودہ مالی سال میں 9.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 12.1 ارب ڈالر ہو گئے ہیں٭سال 2024 میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں مجموعی طور پر 3 ہزار 919 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ مرکزی حکومت کے غیر ملکی قرضوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویز کے مطابق 2024 میں وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں 4 ہزار 632 ارب روپے کا اضافہ ہوا تاہم مرکزی حکومت کے غیر ملکی قرضوں میں 710 ارب روپے کی کمی بھی ہوئی۔اکتوبر 2024 تک کے دستیاب سرکاری ڈیٹا کے مطابق حکومتی قرضہ 69 ہزار 114 ارب روپے رہا تاہم نومبر او ردسمبر 2024 کے دو مہینوں کیحکومتی قرضوں کا ڈیٹا ابھی آنا باقی ہے۔مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2024 تک وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ47 ہزار 231 ارب روپے اور وفاقی حکومت کا غیرملکی قرضہ 21 ہزار 884 ارب روپے تھا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2023 میں وفاقی حکومت کیقرضوں کاحجم 65 ہزار 195 ارب روپے تھا جس میں وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ 42 ہزار 595 ارب روپے اور غیرملکی قرضہ 22 ہزار 600 ارب روپے تھا۔دوسری جانب گزشتہ ہفتے شہباز حکومت کے ابتدائی 8 ماہ میں قرضوں میں اضافے کی تفصیلات سامنے آئی تھی، رپورٹ کے مطابق مارچ سے اکتوبر 2024 تک وفاقی حکومت کے قرضے میں 4 ہزار 304 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔دستاویز کے مطابق فروری 2024 یعنی نگران دور کے آخری مہینے میں وفاقی حکومت کا قرضہ 64 ہزار 810 ارب روپے تھا اور اگست 2023 میں وفاقی حکومت کا قرضہ 63 ہزار 970 ارب روپے تھا.
ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی بھی مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سب سے زیادہ لیوی کی وصولی کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شہری پیٹرولیم لیوی کے بڑھتے بوجھ تلے دب گئے،2024 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ 808 ارب 14 کروڑ روپے کی وصولیوں کا انکشاف ہوا ہے یہ وصولیاں جنوری سے ستمبر کے دوران کی گئیں۔سال کے اختتام تک پیٹرولیم لیوی کا بوجھ مزید بڑھ جائیگا،سرکاری دستاویزات کے مطابق جنوری سے مارچ کی سہ ماہی میں پیٹرولیم لیوی کی آمدنی246ارب 82کروڑروپے،اپریل سے جون کی سہ ماہی میں 299ارب63کروڑ روپے اورجولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں 261 ارب67کروڑ روپے تھی۔اسوقت پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کے فی لیٹرپر60 روپے کے حساب سے لیوی عائدہے، پیٹرولیم لیوی کی آمدنی نان ٹیکس آمدنی ہے جو خالصتاً وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے جبکہ اسکے مقابلے میں ایف بی آرکی ٹیکس آمدنی میں سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 57 اعشاریہ 5 فیصد حصہ صوبوں کے پاس چلاجاتا ہے۔واضح رہے کہ30جون 2025 کوختم ہونیوالے رواں مالی سال کیلئے وفاقی حکومت نیپیٹرولیم لیوی کی مد میں وصولیوں کا ہدف1281 ارب روپے مقرر کیاہے اورمالی سال 2023۔24 میں وصولی ایک ہزار19 ارب روپے تھی جبکہ مالی سال2022۔23میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں580ارب روپے وصول کئے گئے تھے۔
2024 میں چھ لاکھ 63 ہزار 186 سے زائد پاکستانیوں نے ملک کو خیرباد کہا
وزارت اوورسیز پاکستانیز سال 2024 میں پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے مواقع کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور 10 لاکھ کے ہدف کے برعکس 7 لاکھ کے لگ بھگ پاکستانیوں کو قانونی طریقے سے بیرون ملک روزگار ملا۔ یہ نہ صرف ہدف سے کم ہے بلکہ سال 2023 کے مقابلے میں بھی کم و بیش ایک سے ڈیڑھ لاکھ کم ہے۔بیورو آف ایمیگریشن و اوورسیز ایمپلائیمنٹ کے اعداد وشمارکے مطابق 2024 میں چھ لاکھ 63 ہزار 186 سے زائد پاکستانیوں نے قانونی طریقے بیرون ممالک حصول روزگار کے لیے ملک کو خیرباد کہا۔ بیورو کے مطابق2023 میں قانونی طریقے سے بیرون ممالک حصول روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد آٹھ لاکھ 62 ہزار 625 تھی۔ اگر دسمبر میں متوقع طور پر جانے والوں کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی گذشتہ سال کے مقابلے میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ کم ملازمتوں کا امکان ہے۔ایک ایسے وقت میں جب ملک میں معاشی صورت حال قابل رشک نہیں اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بیرون مالک جانے کے لیے تگ و دو کر رہی ہے، اس کے باوجود بیرون ملک ملازمتوں کے حصول کا ہدف حاصل نہ ہونا وزارت اوورسیز کے لیے نہ صرف ایک چیلنج ہے بلکہ اس بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ تمام تر دعوں اور کوششوں کے باوجود خلیجی ممالک کے علاوہ وزارت اوورسیز دنیا کے دیگر ممالک میں اپنا شیئر حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔سال 2024 میں بیرون ملک قانونی طور پر روزگار حاصل کرنے والے کم و بیش سات لاکھ افراد میں سے 90 فیصد سے زائد نے چھ خلیجی ممالک کا رخ کیا جبکہ باقی دس فیصد نے دیگر 48 ممالک میں روزگار حاصل کیا۔ہر سال کی طرح اس بار بھی سعودی عرب سات لاکھ میں سے سوا لاکھ پاکستانیوں کا میزبان بنا اور انھیں ملازمتیں دیں جو بیرون ملک جانے والوں کی کل تعداد کا ساٹھ فیصد بنتا ہے۔ متحدہ عرب امارات 70 ہزار کے قریب، عمان میں 75 ہزار، قطر میں 40 ہزار، بحرین میں 25 ہزار اور کویت میں دو ہزار کے قریب پاکستانیوں کو روزگار ملا۔اس کے علاوہ برطانیہ میں 17 ہزار، ملائیشیا میں چھ ہزار کے قریب، عراق ساڑھے چھ ہزار، رومانیہ ڈیڑھ ہزار اور کچھ دیگر ممالک میں ایک ہزار لوگوں کو ملازمتیں ملیں۔تمام تر کوششوں کے باجود ہدف کا حصول ممکن نہ ہونے اور گذشتہ سال کی نسبت بھی تعداد کم رہنے کی وجہ بیرون مالک تربیت یافتہ ورکرز کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ ہے۔سیکریٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز ڈاکٹر ارشد محمود کے مطابق دنیا بھر کی لیبر مارکیٹ میں مہارت یافتہ ورک فورس کی طلب بڑھ رہی ہے۔ جتنے لوگ بھی مہارت رکھتے ہیں یا پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرتے ہیں انھیں دنیا کے ممالک میں چار سے چھ ہزار ڈالر ماہانہ ملازمت مل رہی ہے، جبکہ غیر تربیت یافتہ مزدور کی تنخواہیں اتنی زیادہ نہیں ہیں۔دوسری جانب ہزاروں پاکستانی تارکین وطن ہر برس غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 2021 سے 2023 تک ایک لاکھ 54 ہزار 205 غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ سینکڑوں غیر قانونی طور پر یورپ داخل ہونے کی کوشش میں جانوں سے بھی گئے۔پاکستان کے کسی بھی ادارے کو غیرقانونی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حتمی تعداد معلوم نہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف اندازے لگائے جاتے ہیں جن کی کسی بھی فورم سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔
2024 پاکستان اسٹاک ایکس چینج کیلئے ایک یاد گار سال رہا
2024 پاکستان اسٹاک ایکس چینج کیلئے ایک یاد گار سال رہا، 2024 میں ریکارڈ نوعیت کی تیزی کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ نے نا صرف تاریخی سنگ میل عبور کیے بلکہ سرمایہ کاری کرنے والوں کو بھاری منافع دیتے ہوئے تاریخی کامیابیوں کا ایک سالہ سفر مکمل کیا۔سال 2024 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ایسے کئی تاریخی ریکارڈز قائم کیے جو اس سے قبل کبھی قائم نہیں ہوئے تھے۔ زیرتبصرہ سال میں کیپیٹل مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو 80فیصد ریٹرن دینے کا بھی ریکارڈ قائم ہوا اور تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ پوائنٹس کا سنگ میل بھی عبور ہوا لیکن اس سے قبل پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں نے کئی سال انتہائی مشکل دور بھی دیکھا۔ ایک سال میں ہنڈریڈ انڈیکس میں مجموعی طور پر52 ہزار807 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ ہوا، یکم جنوری کو جو ہنڈریڈ انڈیکس 62451 پوائنٹس پر تھا وہ تیزی سے بڑھتے بڑھتے 115258 پوائنٹس کا سنگ میل بھی عبور کرگیا۔ سال 2024 کے دوران حصص کی مالیت میں مجموعی طور پر 54 کھرب 95 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔سال 2024 میں غیر ملکیوں نے کیپیٹل مارکیٹ سے شیئرز بیچ کر 12 کروڑ ڈالرز کا سرمایہ نکال لیا اور ایسا پہلی بار ہوا کہ غیرملکیوں کی فروخت پر دبا کے باوجود اسٹاک مارکیٹ نہیں گری۔ زیر تبصرہ سال کے دوران غیرمتوقع طور پر مسلسل غیر معمولی تیزی نے مارکیٹ میں خدشات اور گبھراہٹ کو بھی جنم دیا جس کے باعث دسمبر میں اسٹاک مارکیٹ میں معمول سے ہٹ کر اتار چڑھا بھی دیکھا گیا۔دسمبر کے ایسے ہی دو سیشنز میں ایک دن اسٹاک مارکیٹ 4700 پوائنٹس کی تیزی کا تاریخی ریکارڈ بنا تو وہیں ایک دن 4800 پوائنٹس کی تاریخی مندی کا ریکارڈ بھی مارکیٹ نے اپنے نام کیا۔سال 2024 میں مالیات، فارما، فوڈ، ٹیکسٹائل اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے 9 نئی کمپنیوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچنج میں لسٹ ہوکر عوام کو شیئرز فروخت کرکے اپنے کاروبار میں حصہ دار بنایا تاہم ایک کمپنی پاک سوزوکی موٹرز اپنے شیئرز واپس خرید کر اسٹاک مارکیٹ سے ڈی لسٹ ہوگئی۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سی ای او فرخ سبزواری نے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میکرواکنامک استحکام کے باعث 2024 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج تاریخ ساز بلندیوں پر پہنچی اور کیپیٹل مارکیٹ کے توسط سے سرمایہ کاروں کو 80فیصد ریٹرن حاصل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2024 دوران 5 آئی پی اوز ہوئے اور 6 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ ہوئی، 5 آئی پی اوز کے ذریعے 8ارب 40کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی، ماہوار بنیادوں پر 7 سے ساڑھے 7ہزار نئے انویسٹرز کی کیپیٹل مارکیٹ میں شمولیت بھی ریکارڈ کی گئی۔فرخ سبزواری نے بتایا کہ سال 2025 میں اسٹاک مارکیٹ میں انویسٹرز کی بنیاد کو آگاہی مہم کے ذریعے وسیع کرنا ہے جبکہ فن ٹیک اور اسٹارٹ اپس پر ہماری توجہ مرکوز ہوگی۔