یورپ کو اپنی عوام سے خطرہ محسوس ہورہا ہے،جرمن وزیر دفاع

0

خواتین و حضرات آپ دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے یقینا باخبر ہوں گے۔ سب سے پہلے تو فروری کے مہینے میں جرمنی کے شہر میونخ میں جو دفاعی یا حفاظتی کانفرنس منعقد ہوئی اور اس میں امریکہ کے نائب صدر وینس نے جو بیان دیا تو وہ اس کانفرنس ہال میں بیٹھے دنیا کے بڑے بڑے صدور اور رہنماؤں کے لیے انتہائی حیران کن تھا۔ یہ بیان یورپ کے لیے باعث شرم تھا۔ یہاں تک کہ جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹریوس نے اسے اس حد تک امیز حد تک جانا کہ برافروختہ جواب میں کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ بیان کہ یورپ اپنی جمہوری روایتوں سے انحراف کر رہا ہے قطعی درست نہیں اور یہ کہ وہ ان کی اس بات سے مکمل اختلاف کرتے ہیں کہ یورپ کو روس اور چین سے زیادہ خطرہ، خود اپنی عوام سے محسوس ہو رہا ہے جو موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں کے خلاف پارٹیوں کو ووٹ دے کر کامیاب کرانا چاہتے ہیں۔ نائب صدر کا کہنا تھا کہ یورپ میں ایسی مثال اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ جمہوری اداروں کو کمزور کیا جاتا ہو، عدالتیں انتخابات کو غیر موثر قرار دیتی ہوں اور انتخاب سے قبل ایسی چھوٹی پارٹیوں کو جن کی کامیابی سامنے نظر آرہی ہو انہیں حکومتی کاروبار سے دور رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہو۔ عوام کے ایک بڑے طبقے کے اندر پرورش پاتے شعور کو ہر ممکنہ طریقے سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یورپ میں جمہوریت کی ایسی روایت کبھی بھی نہیں رہی ہے۔ اسی اجلاس میں یوکرین کے مسئلے پر اقوام عالم کے تمام بڑے بڑے سربراہوں، خاص کر یورپ کے پنڈتوں کی نظرلگی ہوئیں تھی کہ امریکہ ایک واضح اور جامع پروگرام طے کرے گا اور روس کو یورپ کی شرائط پر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کرے گا۔ اور اسی مناسبت سے کوئی بیان سامنے آئے گا۔ لیکن برعکس اس کے امریکی نائب صدر کا رویہ اپنے سابقہ رویوں سے 180 درجے بدل چکا تھا۔ ماضی میں بھی امریکہ اپنی پالیسیوں میں اسی طرح کی قلابازیاں کھاتا رہا ہے انتہا تو یہ ہے کہ امریکہ اور روس سعودی عرب میں بیٹھے یوکرین کے مسائل پر بات چیت کر رہے ہیں اور یوکرین اور یورپ کے دیگر ممالک کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت تک نہیں ملی ہے۔ دعوت دینا تو دور کی بات ہے مذاکرات کے اختتام پر دیگر بیان کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی پر شدید نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں کہ انہیں ان پچھلے تین سالوں میں مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو طے کرنا چاہیے تھا بلکہ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی
ٹرمپ نے روس کے بجائے یوکرین کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرادیا۔ ایسے میں یقینا زیلنسکی کو اپنا سب کچھ لٹتا محسوس ہوا ہوگا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ صرف اپنی مفادات کی جنگ لڑا کرتا ہے اور جب وہ اپنے مفاد میں کامیاب ہو جائے تو میدان چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ سن 1971 میں جب ملک پاکستان کا بڑا حصہ ٹوٹ رہا تھا، اور بھارتی جارحیت کے نتیجے میں ملک دولخت ہو رہا تھا تو اس وقت بھی پاکستان پر یہ الزامات عائد کیے گئے تھے کہ وہ اس جنگ کا ذمہ دار ہے کوئی شک نہیں کہ سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں فوج کشی اور دیگر ریشہ داوانیہ یہاں کے عوام کو مشتعل کرنے کا باعث ضرور تھے لیکن اس کا جو حل ہندوستان نے پیش کیا وہ واحد حل نہیں تھا بلکہ امریکہ چاہتا تو وہ پاکستانی حکومت پر دباو ڈال کر بھی بنگالی عوام کے حقوق انہیں دلوا سکتا تھا لیکن اس نے ایسا کرنے کے بجائے جنگ کی راہ اختیار کی اور دوران جنگ بیچ بھنور میں پاکستان کی فوجی جنتا کو چھوڑ کر الگ ہو گیا۔
اس کی مثال افغانستان میں ایک بار پھر دیکھنے میں ائی جب امریکہ اور اس کے حواری راتوں رات افغانستان کو اس کے 40 سال کا حساب دیے بغیر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ آج یوکرین کو اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہوگا کہ اس کا ملک بھی افغانستان جیسے ملک سے ایک درجہ بھی بہتر نہیں ہے کیونکہ اس نے جن پتوں پہ تکیہ کیا وہی اسے آج ہوا دے رہے ہیں امریکہ اور اس کے مابین ہونے والے معاہدے کے تحت روس یورپ کے تمام معاملات کو دیکھے گا اور یورپ اپنے طور پر اپنی سلامتی کی کوشش کرے گا۔ امریکہ کے اس رویے کے جواب میں فرانس میں صدر ایمنویل موکراں کی ایما پہ 18 یورپی ممالک اکٹھے ہوئے ہیں اور کوئی نئی پالیسی تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یورپ نے ہمیشہ ہی برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے دنیا پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ اول و دوئم عالمی جنگیں اس بات کی گواہ ہیں۔ امریکہ کی اس نئی پالیسی کو یورپ کی حکومتیں ایک وقتی تبدیلی جان رہی ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچے گی اور اسی لیے ان کا لائحہ عمل بھی وقتی ہی ہوگا۔
سرور غزالی(جرمنی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں