گیس کی قیمتوں میں بھاری اِضافے کی منظوری مسترد

حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگراٌکی جانب سے گیس کی قیمتوں میں بھاری اِضافے کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے مہلک قرار دیا ہے، یہ غیرمنصفانہ اِضافہ عوام اور صنعتوں پر اِضافی بوجھ ڈالے گا جو پہلے ہی بلند افراطِ زر اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ایک بیان میں احمد ادریس نے کہا کہ اوگرا کو گیس کی قیمتوں میں اِضافے کی تجویز دینے کے بجائے قیمتوں میں کمی کی تجویز پیش کرنی چاہیئے تھی۔ کیونکہ شرح سود میں کمی اور گیس کے نقصانات (یو ایف جی)میں کمی جیسے عوامل اِس بات کی حمایت کرتے ہیں۔ عام طور پر جب شرح سود میں اِضافہ ہوتا ہے تو گیس کے ٹیرف میں بھی اِضافہ کیا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ شرح سود میں کمی کو گیس کے نرخوں کے تعین میں نظرانداز کیا گیا ہے جس سے اوگرا کی قیمتوں میں اِضافے کی تجویز حیران کن نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا کی سفارش پر سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 25.78 فیصد اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے صارفین کے لیے 8.71 فیصد اِضافہ کیا گیا ہے جو واضح طور پر سندھ اور بلوچستان کے صارفین پر پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کے صارفین کو ترجیح دینے کا مظہر ہے۔ ادریس چوہان نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبہ سندھ کو اپنے قدرتی وسائل پر پہلا حق حاصل ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے سندھ اپنی ضرورت کے مطابق گیس سے محروم ہے۔ یہ آئین شکنی ہے اور اِس کے باعث سندھ کے صنعتی اور گھریلو صارفین کو اِضافی چارجز ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ جبکہ اوگرا کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ پاکستان کے تقریبا 70 فیصد قدرتی گیس کے ذخائر رکھتا ہے اور قومی پیداوار میں 63 فیصد حصہ بھی ڈالتا ہے۔ ادریس چوہان نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اِضافے کا باعث بنے گا بلکہ بہت سی صنعتوں اور کارخانوں کی بندش کا سبب بھی بنے گا۔ خاص طور پر ایس ایم ایز جو پہلے ہی مہنگائی اور بلند پیداواری لاگت کا شکار ہیں مزید نقصان اٹھائیں گے۔ اِس کے نتیجے میں بے روزگاری بڑھے گی اور برآمدات متاثر ہوں گی جو معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے حکومت نے گیس کے نئے ذخائر کی دریافت پر توجہ نہیں دی جس کے باعث گیس کا بحران بڑھ رہا ہے۔ اگر فوری اِقدامات نہ کیے گئے تو قیمتیں ناقابل برداشت ہو جائیں گی۔ حکومت کو چاہیئے کہ سندھ کو اِس کا حق دے اور ملکی وسائل کی دریافت کے لیے مثر پالیسی بنائے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ قائم مقام صدر چیمبر ادریس چوہان نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات جیسے کہ رعایتی قرضے اور صنعتی ترقی کے منصوبے اِس فیصلے سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اِضافے سے ایس ایم ایزکی مسابقتی صلاحیت ختم ہو جائے گی جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ اوگرا کو اپنی سفارشات پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت دیں اور متبادل حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائے کہ صنعتوں پر مزید بوجھ نہ پڑے۔ اگر ٹیرف میں اِضافہ ضروری ہو تو اس کا بوجھ دوسرے شعبوں پر منتقل کیا جائے نہ کہ ان صنعتوں پر جو پہلے ہی بلند گیس کے بلوں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ اِس کے ساتھ ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے مثر اور عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں