واشنگٹن:کنزیومر واچ نیوز
امریکی صدر ٹرمپ نے ’گولڈ کارڈ‘ نامی امیگریشن اسکیم متعارف کرائی ہے جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کے تحت 5 ملین ڈالر کی خطیر رقم کے عوض دولت مند غیر ملکی افراد امریکی شہریت بھی حاصل کرسکیں گے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدام موجودہ ای بی فائیو ویزا پروگرام کو تبدیل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس پر دھوکہ دہی اور غلط استعمال کے الزامات لگتے رہے ہیں۔،اوول آفس میں گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ غیر ملکی شہری یہاں مزید دولت مند اور کامیاب ہوں گے، وہ یہاں بہت سارا پیسہ خرچ کریں گے، ٹیکس بھریں گے اور بہت سارے لوگوں کو ملازمتیں فراہم کریں گے۔ یہ ویزا اسکیم ایک انتہائی کامیاب اقدام ہوگا۔
گولڈ کارڈ پروگرام کیا ہے؟
ٹرمپ گولڈ کارڈ ایک مجوزہ امیگریشن اسکیم ہے جو دولت مند غیر ملکی سرمایہ کاروں کو گرین کارڈ کے حقوق دیتی ہے، جس سے انہیں مستقل رہائش اور بعد میں امریکی شہریت حاصل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔موجودہ ای بی فائیو ویزا پروگرام کے برعکس جس کے لیے کم از کم ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے جبکہ گولڈ کارڈ کی قیمت 5ملین ڈالر رکھی گئی ہے۔
ای بی فائیو ویزا پروگرام کو کیوں تبدیل جارہا ہے؟
ای بی فائیو ویزا پروگرام کو 1990 میں امریکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا تھا تاکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملازمت کے مواقع پیدا کیے جا سکیں تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس پروگرام پر بدعنوانی اور غلط استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ اس پروگرام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی اصل شکل سے ہٹ چکا ہے۔ٹرمپ کے کامرس سیکرٹری ہاورڈ لٹنک نے اس پروگرام کو “بکواس’’ اور “فراڈ’’ قرار دیا اور کہا کہ گولڈ کارڈ ایک زیادہ شفاف اور مؤثر متبادل فراہم کرے گا، جس سے ای بی فائیو کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ای بی فائیو پروگرام کے ذریعے کم قیمت پر گرین کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے صدر ٹرمپ نے اس بے مقصد کارڈ کی جگہ ای بی فائیو پروگرام ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گولڈ کارڈ پروگرام کی اہم خصوصیات پانچ ملین ڈالر سرمایہ کاری کی شرط : ای بی فائیو کے مقابلے میں زیادہ سرمایہ درکار ہوگی، جس کا ہدف انتہائی امیر افراد ہوں گے۔گرین کارڈ کے فوائد : سرمایہ کاروں کو امریکہ میں مستقل رہائش اور کام کرنے کے حقوق حاصل ہوں گے۔شہریت کا حصول : اس اسکیم کے تحت سرمایہ کار اور ان کے اہلِ خانہ امریکی شہریت کے حقدار ہوں گے۔ای بی فائیو کا متبادل : یہ پروگرام مکمل طور پر ای بی فائیو ویزا کو ختم کر دے گا، جس پر بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ’ای بی فائیو‘ پروگرام کے تحت ہر سال 10 ہزار امریکی ویزے جاری کیے جاتے تھے جن میں سے تین ہزار ویزے ایسے افراد کے لیے تھے جو ایسے شعبوں میں کام کر رہے تھے جن میں نوکریاں کم ہیں۔
نیا گولڈ ویزا کس کو مل سکتا ہے؟
ٹرمپ کے اعلان کے دوران ایک صحافی نے دریافت کیا کہ کیا روسی اولیگارک (بڑے کاروباری شخصیات) بھی اس اسکیم کے اہل ہوں گے؟ جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ہاں، ممکن ہے۔ میں کچھ روسیوں کو جانتا ہوں جو بہت اچھے لوگ ہیں۔’’ٹرمپ کے مطابق یہ اْن افراد کو مل سکتا ہے جن کے پاس کافی ڈالر ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس کے نتیجے نوکریوں میں اضافہ کرنے کی شرط ہوگی یا نہیں۔
گولڈ کارڈ کی قیمت اور مراعات کیا ہوں گی؟
اس ویزا اسکیم کیلیے درخواست جمع کروانے کی فیس50 لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس بارے میں مزید تفصیلات دو ہفتے بعد شائع کی جائیں گی جب یہ ویزے فروخت ہونا شروع ہوں گے۔گرین کارڈ رکھنے والے بشمول وہ جو ای بی فائیو پروگرام کے تحت یہ مراعات حاصل کر چکے ہیں انہیں امریکہ کے قانونی مستقل شہری کے طور پر پانچ سال تک امریکہ میں زندگی گزارنے کی اجازت ملتی ہے جس کے بعد وہ باقاعدہ شہریت کے لیے اہل ہو جاتے ہیں۔تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا گولڈ کارڈ ویزا حاصل کرنے والوں اس ضمن میں انتظار کرنا پڑے گا یا نہیں۔ٹرمپ کا یہ منصوبہ یقینی طور پر دنیا بھر کے دولت مند سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرے گا، لیکن ساتھ ہی ساتھ ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ یہ امیگریشن کی شفافیت اور قومی سلامتی پر کیا اثرات مرتب کرے گا؟۔یاد رہے کہ سال 1990 میں ’ای بی فائیو‘ ویزا ایسے غیرملکیوں کے لیے شروع کیا گیا تھا جو کسی ایسی کمپنی میں 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں جن میں کم از کم 10 ملازمین کو ملازمت فراہم کی جائے۔ایسے افراد کو اس کے بدلے فوری طور پر گرین کارڈ مل جاتا ہے، عام طور پر گرین کارڈز کے خواہش مند افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے کئی کئی سال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
’ای بی فائیو‘ ویزا پروگرام کیا ہے اور ٹرمپ اسے ختم کیوں کر رہے ہیں؟
سنہ 1990 میں ’ای بی فائیو‘ ویزا ایسے غیرملکیوں کے لیے شروع کیا گیا تھا جو کسی ایسی کمپنی میں 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں جن میں کم از کم 10 ملازمین کو ملازمت فراہم کی جائے۔ ایسے افراد کو اس کے بدلے فوری طور پر گرین کارڈ مل جاتا ہے۔ عام طور پر گرین کارڈز کے خواہش مند افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے کئی کئی سال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ’ای بی فائیو‘ پروگرام کے تحت ہر سال 10 ہزار امریکی ویزے جاری کیے جاتے تھے جن میں سے تین ہزار ویزے ایسے افراد کے لیے تھے جو ایسے شعبوں میں کام کر رہے تھے جن میں نوکریاں کم ہیں۔امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس کا کہنا ہے کہ ای بی فائیو ویزا کا مقصد ’امریکی معیشت کو نوکریوں میں اضافے اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنا ہے۔‘تاہم ٹرمپ کے کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک کا ماننا ہے کہ ’اس پروگرام کا استحصال کیا جا رہا ہے اور یہ مراعات (امریکی شہریت) بہت کم قیمت کے عوض دی جا رہی ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’ای بی فائیو پروگرام بے معنی اور فراڈ ہے اور اس کے ذریعے کم قیمت پر گرین کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے صدر نے اس بے مقصد کارڈ کی جگہ ای بی فائیو پروگرام ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘سنہ 2021 میں امریکی حکومت کے احتساب کے دفتر کو معلوم ہوا کہ ای بی فائیو ویزا پروگرام میں فراڈ کا خطرہ بہت زیادہ ہے کیونکہ امیدوار کی جانب سے فنڈز کہاں سے بھیجے گئے ہیں یہ جاننا بہت مشکل ہے اور اس پروگرام میں سرمایہ کے باعث طرف داری بھی کی جا سکتی ہے۔
گرین کارڈ رکھنے والے بشمول وہ جو ای بی فائیو پروگرام کے تحت یہ مراعات حاصل کر چکے ہیں انھیں امریکہ کے قانونی مستقل شہری کے طور پر پانچ سال تک امریکہ میں زندگی گزارنے کی اجازت ملتی ہے جس کے بعد وہ باقاعدہ شہریت کے لیے اہل ہو جاتے ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا گولڈ کارڈ ویزا حاصل کرنے والوں اس ضمن میں کم انتظار کرنا پڑے گا یا نہیں۔گولڈن ویزا دنیا بھر میں خاصے عام ہیں۔ برطانیہ، سپین اور یونان جیسے ممالک میں بھی یہ ویزا فروخت کیے جاتے ہیں اور کچھ ممالک جیسے مالٹا، مصر اور اردن میں تو آپ کو اس سرمایہ کاری کے عوض براہِ راست شہریت مل جاتی ہے۔یہ ’گولڈن پاسپورٹ‘ پروگرامز کیریبیئن میں بھی موجود ہیں جہاں ڈومینیکا، گریناڈا، سینٹ کیٹس اور نیوس میں اس ویزا کی فیس دو سے تین لاکھ ڈالر تک رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں گولڈن ویزا پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 100 ارب درہم تک کی مالیت کی سرمایہ کاری کرنے والے 6800 سرمایہ کاروں کو ’گولڈن کارڈ‘ جاری کیا گیا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ گولڈن کارڈ کا مقصد متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کرنے والوں، بین الاقوامی اہمیت کی بڑی کمپنیوںکے مالکان، اہم شعبے کے پیشہ وروں، سائنس کے میدان میں کام کرنے والوں محققوں اور باصلاحیت طلبہ کو متحدہ عرب امارات کی ترقی میں شامل اور متوجہ کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق عام طور پر گولڈن ویزا پروگرام اس لیے متنازع ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جا سکتی ہے یا فراڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کی وجہ سے بڑے شہروں میں گھروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان خدشات کے باعث متعدد یورپی ممالک جن میں برطانیہ، نیدرلینڈز اور یونان شامل ہیں نے گذشتہ چند سالوں کے دوران اپنے گولڈن ویزا پروگرام بند کر دیے تھے۔
آسٹریلیا کی جانب سے غیر ملکی تاجروں کے لیے گولڈن ویزا پالیسی کا آغاز کیا گیا تھا لیکن چونکہ نتائج اچھے نہیں آئے اس لیے امیگریشن پالیسی میں ترامیم کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا۔پہلے ہی گولڈن ویزا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا استعمال بدعنوان اور سود پر رقم دینے والے لوگ کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے گولڈن ویزے کے حصول کے لیے کسی غیر ملکی سرمایہ کار کو کم از کم 3.3 ملین ڈالر جو کہ تقریباً 27 کروڑ 44 لاکھ انڈین اور 50 کروڑ سے زیادہ پاکستانی روپے کے برابر ہے کی سرمایہ کاری درکار تھی۔کئی تحقیقات کے بعد آسٹریلین حکومت نے محسوس کیا کہ یہ پالیسی اپنا مقصد حاصل نہیں کر پا رہی ہے۔