پہاڑوں کے دامن میں گھرا وینزو اور سامنے سڑک کے کنارے روشن لالٹینیں، جن پر قدیم چینی خطاطی میں کچھ لکھا تھا، ہوا کے ساتھ جھول رہی تھیں۔ہمارے میزبان، مسٹر چائو، پہلے سے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھے اور نہایت خلوص سے ہاتھ ملایا۔ ان کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو وینزو کے ہر شہری میں دکھائی دیتی ہے ایک مہمان نواز، گرم جوش اور زندگی سے بھرپور انداز۔””گاڑی میں بیٹھتے ہی، مسٹر چائو نے ہنستے ہوئے کہا، ‘آپ خوش قسمت ہیں کہ وینزو کی سب سے مشہور چیز، رات کی روشنیوں کو دیکھنے کا موقع مل رہا ہے لیکن اس بار بارشیں معمول سے زیادہ ہو رہی ہیں اس لیے چھتری ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں ۔’ گاڑی تیزی سے شہر کی طرف روانہ ہوئی، اور میں کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔ ہر طرف قدیم اور جدید کا امتزاج نظر آ رہا تھا۔ ایک طرف بلند و بالا عمارتیں تھیں، جن پر نیون روشنیوں کے ساتھ چینی حروف جگمگا رہے تھے، اور دوسری طرف پرانے لکڑی کے گھر، جو صدیوں کی تاریخ سناتے محسوس ہو رہے تھے۔””مسٹر چائو نے بتایا، ‘یہ وینزو ہے، جہاں لوگ نہ صرف تجارت میں ماہر ہیں بلکہ اپنے کلچر اور روایات کو زندہ رکھنا بھی جانتے ہیں۔’ ان کے لہجے میں فخر کی جھلک تھی۔ ‘آپ دیکھیں گے کہ یہاں کے لوگ زندگی کو کس طرح محبت اور محنت کے ساتھ گزارتے ہیں۔’ ان کی باتیں سن کر میرا تجسس مزید بڑھ گیا۔””گاڑی جب شہر کے مرکز میں پہنچی تو مجھے لگا جیسے میں کسی خواب کا حصہ بن گئی ہوں۔کشادہ شاہراہیں , جن کے دونوں اطراف گلاب کے پھولوں کی باڑ تھی . دونوں جانب چمکتے کاغذی فانوس لٹک رہے تھے، اور ہر موڑ پر کسی قدیم کہانی کی جھلک مل رہی تھی۔ مسٹر چائو نے بتایا کہ یہاں ہر گلی کی اپنی کہانی ہے، اور لوگ اپنے آبائو اجداد کی روایات کو زندہ رکھنے کے لیے ان کہانیوں کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ اسی دوران ہماری گاڑی ایک قدیم پل کے اوپر سے گزری. پل کے نیچے بہتا دریا چاند کی روشنی میں چمک رہا تھا مسٹر چا ئونے پل کے بارے میں بتایا کہ یہ پل تقریبا پانچ سو سال پرانا ہے اور یہاں کے لوگوں کے لئے محبت اور اتحاد کی علامت ہے.”میں نے سوچا یہ شہر نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ اپنے ماضی اور حال کو خوبصورتی سے سنبھالے ہوئے ہے.جہاں قدیم روایات اور جدید ترقی ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔چین کا شہر وینزو، ایک ایسا شہر ہے جس کی تاریخ بھی کسی ہیرے جواہرات سے کم نہیں۔ جیسے ہی آپ اس شہر میں قدم رکھتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماضی اور حال کا سنگم ایک خوبصورت اور حیرت انگیز طریقے سے آپ کے روبرو ہے۔ یہ شہر صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی تاریخ ہے، جو اپنی تمام تر عظمتوں اور چیلنجوں کے ساتھ آپ کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔وینزو کا ماضی اتنا رنگین ہے کہ اس کی کہانیاں سن کر آپ کو لگے گا کہ جیسے کسی قدیم داستان کا حصہ بن گئے ہوں۔ 192 قبل مسیح میں جب اس شہر نے مشرقی او کی سلطنت کا دارالحکومت ہونے کا اعزاز حاصل کیا، تب یہ شہر ایک نیا سورج بن کر ابھر رہا تھا۔ اور پھر جب 323 عیسوی میں اس نے یونگجیا پریفیکچر کا درجہ حاصل کیا، تو گویا یہ شہر اپنی عظمت کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ لیکن ایک کہانی بھی ہے، جو شاید اس شہر کے دل کی آواز ہو۔ کہتے ہیں کہ جب اس شہر کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، تو ایک سفید ہرن پھول کے ساتھ شہر کے گرد چکر لگاتا تھا۔ اس دن کے بعد سے، وینزو کو “سفید ہرن کا شہر” کے نام سے جانا جانے لگا۔ وینزو کا شمار چین کے ان شہروں میں ہوتا ہے جہاں کی دستکاری، سیلاڈون کے سامان، کاغذ سازی، کشتی سازی، ریشم، کڑھائی، لکڑی کے کام، جوتے اور چمڑے کی مصنوعات کا نام دنیا بھر میں لیا جاتا ہے۔ ان تمام چیزوں کے بیچ، ایک اور چیز ہے جو وینزو کو دیگر شہروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ ہے اس کی ثقافت۔ وینزو “نانشی اوپیرا” کا گھر ہے،
جسے جنوبی اوپیرا بھی کہا جاتا ہے۔ گا منگ کے مشہور ڈرامے “دی پیپا” کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی، اور اس کی کہانیوں نے وینزو کو دنیا بھر میں ایک خاص مقام دلایا۔مگر وینزو کی عظمت صرف اس کی تاریخ اور ثقافت تک محدود نہیں۔ اس شہر نے کئی عظیم فلسفیوں، شاعروں اور دانشوروں کو جنم دیا ہے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے چینی ادب، فلسفہ اور سائنس میں انقلابی تبدیلیاں لائیں۔ یونگجیا اسکول کے فلسفی “یے شی” اور جنوبی سونگ دور کے “دریا اور جھیلوں کے اسکول” کے شاعروں نے وینزو کو ایک نئی پہچان دی۔وینزو کے بارے میں سب سے دلکش بات یہ ہے کہ یہاں کی ثقافت ایک خوبصورت توازن قائم کرتی ہے۔ یہاں کی دستکاری، اوپیرا، آرٹ، ڈرامہ، رقص اور لوک ادب میں ایک عجیب سی گہرائی ہے، جو نہ صرف چینی بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ شہر صرف تاریخ کا محافظ نہیں بلکہ ایک جدید ترقی کی علامت بھی ہے۔ وینزو کا جغرافیہ، اس کی تاریخ اور اس کی ثقافت ایک خوبصورت کہانی بناتی ہے، جس میں ہر قدم پر ایک نیا راز، ایک نیا تجربہ چھپا ہوتا ہے۔ اور جب آپ اس شہر کی گلیوں میں چلتے ہیں، تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک سیاح نہیں بلکہ اس شہر کا حصہ بن چکے ہیں، جہاں ہر زاویہ، ہر منظر اور ہر کہانی آپ کو اپنے اندر کھینچ لیتی ہے۔اس شہر میں، جہاں ماضی کی گونج اور حال کی حقیقت آپس میں ملتی ہیں، وہیں ہر شخص کا سفر ایک منفرد تجربہ ہوتا ہے۔ وینزو کی گلیاں، بارش میں دھلے پہاڑ، اور لوگوں کے چہروں پر سجی مسکراہٹیں۔۔۔ یہ سب کسی خواب کا حصہ لگتے ہیں۔ مگر خوابوں کے ساتھ کچھ حقیقتیں بھی ہوتی ہیں، جو ہمارے جیسے مسافروں کے قدموں کو کبھی بوجھل اور کبھی ہلکا کر دیتی ہیں۔ پہاڑوں کے دامن میں گھرا یہ شہر اپنی خوبصورتی سے دل کو موہ لیتا ہے، لیکن کیا یہ دل کو ہمیشہ کے لیے اپنا بنا سکتا ہے؟ ہم پاکستانی، جہاں بھی جاتے ہیں، اپنی ثقافت، اپنی روایات اور اپنی شناخت کا عزم بھی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ وینزو میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہاں کے لوگوں کی مسکراہٹیں تو بے حد خلوص بھری ہیں، مگر کیا یہ مسکراہٹیں ہمارے عقیدے، ہماری زبان اور ہمارے رہن سہن کو قبول کر سکیں گی ؟ اور ہاں، کھانے کی بات کریں تو یہاں کے پکوان کا ہر ذائقہ یقینا منفرد ہوگا، مگر ایک پاکستانی کے لیے اپنے ذائقے سے دور رہنا کسی امتحان سے کم نہیں۔ حلال کھانے کی تلاش، اردو بولنے والوں کی کمی، اور مسجد کے میناروں کو ڈھونڈنے کی جستجو۔۔۔ یہ سب کہانی کے وہ حصے ہیں جنہوں نے ہمیں ایک لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور کیا کہ یہاں رہنا کتنا آسان ہوگا؟ کیا وینزو کے ان چمکتے بازاروں میں ہماری اقدار جگہ بنا سکیں گی؟ کیا زبان کا یہ خلا کبھی بھر سکے گا؟ اور کیا یہ سرزمین ہماری کہانیوں کا حصہ بنے گی یا صرف ایک عارضی قیام کی منزل رہے گی؟ یہ سب جاننے کے لیے آپ کو اگلی قسط کا انتظار کرنا ہوگا، جہاں ہم وینزو کی زندگی کے ان گوشوں کو بے نقاب کریں گے، جو ہر اجنبی کے لیے حیرت کا باعث بنتے ہیں۔ تو دل تھام لیجیئے , کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی!
چین کے شہر وینزو میں حلال کھانے کی تلاش ایک امتحان
