چین کی پہلی مسجد: Huaisheng Mosque کی تاریخ ….ارم زہرا

چین کے شہر گوانگڑو کی فضائیں ہمیشہ سے مجھے کسی پرانی داستان کی طرح مہمیز دیتی رہی ہیں۔ اس شہر میں نمی بھری ہوا کا ایک مستقل لمس ہے، جیسے سمندر نے شہر کے گال پر نم چوم رکھے ہوں۔ جب میں نے سب وے اسٹیشن سے نکل کر باہر قدم رکھا تو دھوپ دھیمی سی تھی، مگر ہوا میں ایک عجیب سی سرگوشی تھی۔ یوں جیسے صدیوں کے واقعات مجھے اپنی طرف بلا رہے ہوں۔ میں جانتی تھی کہ آج میں اْس مقام کی طرف جا رہی ہوں جس کے بارے میں پڑھتے ہوئے ہمیشہ دل دھڑکا تھا۔ Huaisheng Mosque وہی مسجد جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلام کی پہلی خوشبو چین میں یہاں بسی تھی۔
راستہ پھولوں سے بھری گلیوں میں سے گزرتا تھا۔ لوگوں کے چہروں پر وہ خوش دلی تھی جو مصروف شہروں میں اب کم دکھائی دیتی ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہاں سے 1300 سال پہلے جب عرب تاجر اور داعیانِ اسلام آئے ہوں گے تو کیا شہر بھی یوں ہی رنگین و مصروف ہوگا، یا یہ گلیاں تب سمندر کے کنارے کسی خاموش معبد کا سا سکوت رکھتی ہوں گی؟
مسجد کا سفید مینار دور ہی سے نظر آنے لگا۔ بلند، باریک، روشن، جیسے آسمان کے ساتھ کسی خاموش معاہدے میں بندھا ہوا ہو۔ میں نے قدم تیز کر لیے۔ جوں جوں میں نزدیک پہنچتی گئی، ماحول کا شور پیچھے رہتا گیا۔ مسجد کے دروازے کے سامنے کھڑی ہو کر یوں لگا جیسے میں کسی صدیوں پرانی کتاب کے پہلے صفحے پر پہنچ گئی ہوں۔
Huaisheng Mosque، جسے Guangta Mosque یا Lighthouse Mosque بھی کہا جاتا ہے، چینی تاریخ کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ روایات کے مطابق اس کی بنیاد 7ویں صدی (Tang Dynasty) میں رکھی گئی۔وہ زمانہ جب دنیا کے نقشے بدل رہے تھے اور تجارت کے راستے قوموں کو قریب لا رہے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص? جو رسولِ اکرم ? کے قریبی صحابی تھے۔ چین میں اسلام کا پیغام لانے والوں میں شامل تھے۔ اگرچہ تاریخ دان اس بارے میں مختلف آراء￿ رکھتے ہیں، مگر گوانگڑو کے مسلمانوں کی روایتی تاریخ انہیں پہلی تبلیغ کا مرکز مانتی ہے۔ اسی نسبت سے اس مسجد کو ‘‘چراغِ یاد’’ کے مفہوم میں Huaisheng کہا جاتا ہے—یعنی ’He Who Remembers the Sage‘۔
مسجد کو صدیوں میں کئی بار تعمیر کیا گیا۔ کچھ حصے جنگوں میں متاثر ہوئے، کچھ وقت کے ہاتھوں ماند پڑے، مگر مینار—جسے Lighthouse Tower کہا جاتا ہے ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہا۔ قدیم بحری جہازوں کے ملاح اسے سمندری راستوں کے تعین کے لیے بھی دیکھتے تھے۔ آج بھی یہ 36 میٹر بلند مینار شہر کے دل میں اپنی خاموش شہادت پیش کرتا ہے کہ روشنی کبھی بجھتی نہیں۔
آج اس مسجد کی دیکھ بھال Guangzhou Islamic Association کے زیر انتظام ہے۔ یہاں کا عملہ مقامی چینی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو اس ورثے کو یوں سنبھالتے ہیں جیسے اپنے بزرگوں کے قیمتی خطوط۔
دروازہ پار کرتے ہی مجھے ایک پرسکون صحن ملا۔ ٹھنڈی ہوا نے میرا اسکارف چھوا، جیسے مسجد نے مجھے خوش آمدید کہا ہو۔ درختوں کی پتیوں پر بارش کی نمی ابھی تک ٹھہری ہوئی تھی، اور دھوپ کے نقرئی ذرات ان پر رقص کر رہے تھے۔
میں نے محسوس کیا کہ یہاں کی خاموشی شور کو نگل لیتی ہے۔ مسجد کے اندر کا ماحول کسی صوفی درویش کی سی گہرائی لیے ہوئے تھا۔ مجھے لگا جیسے ہر دیوار میں وقت کی سانسیں محفوظ ہوں۔
میں آہستہ قدموں سے مینار کے نیچے پہنچی۔ اس کے سنگی بدن پر ہاتھ رکھا تو وہ ٹھنڈا تھا، مگر اس کے اندر وقت کا اک گرم دھڑکن تھی۔ میں نے سوچا ‘‘کتنی نسلوں نے اس مینار کو دیکھا ہوگا؟ کتنے دل یہاں آکر بدل گئے ہوں گے؟’’
ایک چینی مسلمان خاتون، سفید اسکارف میں، میرے قریب آئی۔ وہ نرمی سے بولی:
‘‘You are from Pakistan’
میں نے سر ہلایا۔ وہ مسکرائی:
‘‘Many people from your country visit here. Mosque is… like bridge of hearts.’’
?bridge of hearts…
مجھے لگا جیسے اس نے صدیوں پر محیط کہانی ایک جملے میں کہہ دی۔
مسجد کا ہال سادگی سے آراستہ تھا۔ لکڑی کے ستون، سبز قالین، اور کھڑکیوں سے چھن کر آتی روشنی۔ یہاں کسی مغرب کے بڑے تعمیراتی عجائب جیسی تجمل پسندی نہیں تھی، مگر روحانیت کی ایک ایسی خوشبو تھی جو دل کو بہت آہستگی سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
میں نے ایک کونے میں بیٹھ کر اپنے جوتے برابر رکھے اور آنکھیں بند کر لیں۔ جب اذان کی آواز بلند ہوئی تو ایسا لگا جیسے صدیوں کا سفر میرے گرد ایک دائرے کی صورت مکمل ہو رہا ہو۔ چینی لہجے میں دی گئی اذان نے دل کو عجیب طرح چھوا۔ اس میں اسلام کی عالمگیر وسعت بھی تھی اور ایک ذاتی سا پیار بھی۔
نماز کے بعد جب میں صحن میں ٹہل رہی تھی، تو میں نے دیکھا۔ کچھ عرب خاندان تصویریں بنا رہے تھے۔ چند ملائیشین سیاح دعا مانگ رہے تھے۔ دو افریقی طالب علم مسجد کے نوٹس بورڈ پڑھ رہے تھیاور کچھ یورپی ٹورسٹ صرف اس کی قدامت دیکھنے آئے تھے
میں نے ایک معمر چینی امام کو کہتے سنا
‘‘This mosque is not only for Muslims… it is a world heritage of peace.’’
واقعی، یہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں، ایک زندہ تاریخ ہیاسلام اور چین کی مشترکہ داستان۔
میں نے مسجد سے نکلتے ہوئے پلٹ کر دوبارہ مینار کو دیکھا۔ وہ شام کی نرم روشنی میں اور بھی شان دار لگ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہاں آنے والا ہر مسافر اپنے اندر کوئی نہ کوئی بے نام سا سوال لے کر آتا ہے، اور مسجد اسے ایک بے آواز، مگر گہرا جواب دیتی ہے۔
‘‘گوانگڑو کی اس مسجد میں نہ عربیت کی رنگینیاں ہیں نہ ایشیائی شان و شوکت؛ یہاں بس ایک ایسا سکوت ہے جو دل کے دروازے کھول دیتا ہے۔ Huaisheng مسجد ایک عمارت نہیں یہ چراغ ہے۔ وہ چراغ جس کی لو نے صدیوں سے دلوں کو منور رکھا ہوا ہے۔ اور میں… میں بھی اس روشنی کا ایک ذرہ اپنے اندر لے کر جا رہی ہوں۔’’
گوانگڑو کی مسجد سے نکل کر جب میں نے شہر کی پرانی گلیوں کا رخ کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔جیسے اس کا دوسرا باب خود میرے قدموں کے ساتھ چلنے لگا ہو۔ گلیوں کے موڑ پر ہوا میں سمندر کی نمی کم اور تاریخ کی خوشبو زیادہ محسوس ہونے لگی۔ شاید اسی خوشبو نے مجھے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اسلام کا سفر چین تک پہنچا ہی اتنا سیدھا نہیں تھا یہ تین بڑی راہوں سے گزرا تھا۔ اور ہر راستے کے ساتھ ایک نیا عہد، ایک نیا رنگ جڑا ہوا تھا۔
چین کی طرف آنے والی پہلی راہ Silk Road تھی، وہی عظیم راستہ جو شہروں کو نہیں دلوں کو جوڑتا تھا۔ انہی ریشمی راستوں پر کبھی عرب قافلے چلتے تھے۔ ان کے اونٹوں کی گرد میں تجارت کے ساتھ ساتھ محبت، امن اور دین کی روشنی بھی سفر کرتی تھی۔ میں نے سوچا، شاید انہی قافلوں کی آہٹ آج بھی شیان کے پتھروں میں محفوظ ہے۔
دوسرا راستہ Maritime Silk Route تھا، سمندر کے نیلگوں تن پر چلنے والی وہ لہریں جو عرب تاجروں کو گوانگڑو، چوانڑو اور ہانگڑو تک لاتی تھیں۔ انہی تاجروں نے یہاں کی بندرگاہوں کو عبادت کے نور سے روشن کیا، اور انہی کے قدموں کے نشانات پر بعد میں کئی مساجد نے جنم لیا۔
تیسرا راستہ سفارتی روابط کے ذریعے کھلا، جب ابتدائی مسلم سفیر چین کے دربار میں پہنچے۔ Tang اور Song خاندانوں کے دور میں مسلمانوں کو رہائش، تجارت اور عبادت کی آزادی ملی۔ انہی ادوار میں Hui مسلمان وجود میں آئے۔ وہ چینی نسل اور عرب ورثے کے خوبصورت ملاپ کا نام ہیں۔
میں نے اپنے ذہن میں ایک تصویر دیکھی Hui لڑکیاں سفید دوپٹوں میں، حلال بازاروں کی رونقیں، عربی آیات جو چینی خطاطی میں ڈھل کر کسی بادل کی لکیر کی طرح نرم ہو جاتی ہیں۔ رمضان کی راتوں میں ان کے گھروں سے اٹھتی ہلکی سی روشنی، اور عید کے دن ان کے صحنوں میں بچوں کی ہنسی… یہ سب کچھ اسلام کی وہ شکل ہے جو صدیوں سے چینی دلوں میں رچی بسی ہے۔
اور یہی ورثہ آج چین کی مساجد میں سانس لیتا ہے۔
بیجنگ کی Niujie Mosque جسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے چین اور اسلام نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کر عبادت کی کوئی نئی زبان بنا لی ہو۔ اس کی لکڑی پر بنے نقوش صدیوں کے ذکر کی گواہی دیتے ہیں۔
شیان کی Great Mosque جہاں دروازے پر ‘‘اللّٰہ النور’’ لکھا ہے مگر تحریر ایسی جیسے کسی چینی مصور نے اپنا دل روشنائی میں ڈبو کر لکھا ہو۔ وہاں نماز ہال سے زیادہ باغات دل کو چھوتے ہیں، جیسے عبادت ہوا میں گھلی ہوئی ہو۔
چوانڑو کی Qingjing مسجد جسے لوگ کبھی Arabian Temple کہا کرتے تھے۔ اس کے یمنی طرز کے محراب مجھے سمندر کی نمکین ہوا میں ڈولتی عرب کشتیوں کی یاد دلاتے ہیں۔

کاشغر کی Idkah Mosque جس کے بلند دروازے پر زمانہ رکا سا محسوس ہوتا ہے۔ اگر گوانگڑو کا مینار سمندر کے سفر کی یاد ہے تو کاشغر کی یہ مسجد ریشم کے قافلوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔
ہانگڑو کی Phoenix Mosque جو زلزلوں کے بعد بھی بار بار بنی، بالکل ایسے جیسے ایمان کی جڑیں زمین میں بہت گہری ہوں۔
اور اس سارے سفر میں میں نے ایک حقیقت محسوس کی چین کا مسلمان صرف عبادت گزار نہیں، ایک زندہ تاریخ ہے۔ Salar، Hui، Uyghur، Dongxiang یہ سب اپنے اپنے رنگوں کے ساتھ اسلام کی وہ قندیل ہیں جو صدیوں سے یہاں جل رہی ہے۔
اور یوں مجھے لگا کہ میرا گوانگڑو کا سفر، دراصل، چین میں اسلام کی پوری داستان کا دروازہ تھا۔ ایک ایسا دروازہ جو آج کھلا تو مجھے پوری دنیا کی روشنی دکھا گیا۔
یہاں میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی نے سر اٹھایا۔ ایسی بے چینی جو مسافر کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ میں گوانگڑو کی پرانی گلیوں میں قدم رکھے آگے بڑھ رہی تھی، مگر محسوس یوں ہوتا تھا جیسے میں صرف شہر میں نہیں، تاریخ کے اندر چل رہی ہوں۔ ہر چہرہ، ہر دروازہ، ہر پتھر مجھے کسی نئے باب کی طرف کھینچتا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ چین کی یہ داستان صرف مساجد کی نہیں، ان لوگوں کی ہے جنہوں نے صدیوں تک اس روشنی کو اپنے دلوں میں محفوظ رکھا۔
میری ملاقات ایک Hui خاندان سے ہوئی۔ ان کی چھوٹی سی دکان کے باہر گرما گرم نان پک رہے تھے۔ وہی خستہ نان جن کی خوشبو کہیں نہ کہیں بخارا، سمرقند اور عرب ریگزاروں تک جا پہنچی تھی۔ دکان کی مالکن نے جب مسکراتے ہوئے مجھ سے پوچھا: ‘‘Muslim?’’ تو اس کے لہجے میں وہ بے تکلف محبت تھی جو ساری دنیا کے مسلمانوں میں مشترک ہے۔ میں نے سر ہلایا۔ اس نے فوراً چائے سامنے رکھ دی۔ مجھے لگا جیسے میں کسی پرائے دیس میں نہیں، اپنی نانی کے گھر آگئی ہوں۔
?Hui لوگوں کی یہ سادگی مجھے صدیوں پیچھے لے گئی۔ وہ اپنی زبان میں چینی بولتے ہیں مگر گھر کی دیواروں پر عربی خطاطی سجی ہوتی ہے۔ دسترخوان چینی خوراک سے بھرا ہوتا ہے مگر ذائقہ اسلامی روایت کا ہوتا ہے۔ وہ رمضان میں مساجد کے باہر لالٹینیں جلاتے ہیں اور عید کے دن سفید پوش میں ایسے سجتے ہیں جیسے کوئی پھول نرم روشنی اوڑھ لے۔
میں گلیوں میں آگے بڑھی تو مجھے Uyghur نوجوانوں کا ایک گروہ ملا۔ ان کی موسیقی، جس میں رباب اور دف کی دھڑکن شامل تھی، ہوا میں تیرتی ہوئی دل کے اندر کسی نرم تار کو چھیڑ گئی۔ ان کے چہروں پر صدیوں کی مسافت، ریشم کی خوشبو، اور ترکستانی موسموں کی دھوپ سمٹی ہوئی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ کاشغر کی Idkah مسجد انہی کی دعاؤں سے آباد ہے۔
?Dongxiang لڑکے مسجد کے باہر وضو کر رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کے انداز میں ایک خاص سا وقار ہے۔ زندگی کے سخت موسموں کے باوجود ایمان کا نرم پھول ان کے چہروں پر کھلتا ہے۔ Salar قوم کے چند بزرگ مسجد کے دروازے پر بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے۔ میں نے ان کی آنکھوں میں وہی خاموشی دیکھی جو پہاڑوں پر جمع برف میں ہوتی ہے۔ سفید، گہری، اور کبھی نہ پگھلنے والی۔

چین میں عورتوں کی مساجد کا وجود میرے لیے ایک حیرت انگیز انکشاف تھا۔ جہاں دنیا کے کئی حصوں میں عورتوں کو عبادت کی جگہ صرف ایک گوشہ ملتا ہے، وہاں چین کی Hui خواتین نے صدیوں پہلے اپنی الگ عبادت گاہیں بنا لی تھیں۔ ‘‘Nüsi’’ یعنی Women’s Mosque۔ یہاں خواتین قرآن پڑھاتی ہیں، اجتماعات کرتی ہیں، اور کبھی کبھی امامت بھی۔ میں نے سوچا شاید یہی وہ روشنی ہے جو صدیوں کے سفر کے باوجود کم نہیں ہوئی۔
اس سارے منظر میں ایک بات واضح تھی اسلام یہاں کسی تلوار کے ساتھ نہیں آیا تھا، بلکہ سکون، تجارت، محبت، اور مسافروں کے دلوں سے بہتا ہوا پھیلا تھا۔ اور چینی مسلمانوں نے اسے اپنے موسموں، تہذیبوں اور دلوں میں یوں جذب کیا کہ اب یہ روشنی ان کی اپنی روشنی بن چکی ہے۔
میرا سفر گوانگڑو سے شروع ہوا تھا، مگر اب لگتا تھا کہ یہ راستہ مجھے پورے چین کے روحانی نقشے پر گھما رہا ہیاور ہر موڑ پر ایک نئی اذان، ایک نیا چہرہ، اور ایمان کی ایک نئی خوشبو میرا استقبال کر رہی ہے۔
سفر جب اپنے آخری سرے پر پہنچنے لگتا ہے تو قدموں میں عجیب سی مٹھاس اور دل میں ہلکا سا بوجھ اتر آتا ہے۔ گوانگڑو کی گلیوں میں میرا قیام بھی انہی کیفیتوں سے بھر گیا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس شہر نے مجھے اپنے دامن میں کچھ لمحوں کے لیے نہیں، صدیوں کے لیے بسا لیا ہو۔ ہوا میں وہی مانوس نمی تھی، مگر اب اس نمی کے اندر تاریخ، چراغ اور اذان کی بازگشت ملی ہوئی تھی۔
اس دن میں دوبارہ Huaisheng Mosque کی طرف نکلی۔ آسمان پر شام کے خنک سائے پھیل رہے تھے۔ مسجد کا مینار دور سے ایسے چمک رہا تھا جیسے کسی نے فضا میں ایک سفید قلم سے روشنی کی لکیر کھینچ دی ہو۔ میں صحن کے بیچ کھڑی تھی اور محسوس کر رہی تھی کہ میری کہانی یہاں سے شروع بھی ہوئی تھی اور شاید یہیں مکمل بھی ہونا تھی۔
میں نے مسجد کی زمین پر بیٹھ کر ہاتھ دوبٹے کے نیچے رکھے اور آس پاس پھیلی خاموشی کو سمیٹ لیا۔ اب میں جان چکی تھی کہ چین کے مسلمان صرف تاریخ نہیں، ایک زندہ روشنی ہیں وہ روشنی جسے نہ کسی حکمران نے بجھایا، نہ زمانے کی آندھی اسے ہلا سکی۔ وہ اپنے دلوں، گھروں، مساجد اور بازاروں میں اسی طرح روشن ہے جیسے کسی قدیم چراغ کا ارمان۔
میرے ذہن میں Niujie Mosque کی لکڑی کے نقش تھے، شیان کی مسجد کے باغات تھے، کاشغر کے نیلے آسمان کے نیچے کھڑی Idkah کی محرابیں تھیں۔ مجھے لگا جیسے یہ سب مساجد ایک دوسرے سے ہاتھ پکڑے کھڑی ہیں، اور ان کے درمیان میں ایک مسافر ، میں نے وقت کی ان پتلی راہوں پر چلتی ہوئی، ان سب کو ایک ہی داستان کے دھاگے میں پرو رہی ہوں۔
اسی لمحے ایک بچی مسجد کے گیٹ سے اندر آئی۔ اس کی ماں نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا، اور وہ ایک چھوٹا سا سفید اسکارف پہنے تھی۔ بچی نے مینار کی طرف دیکھا، پھر مجھے دیکھ کر مسکرا دی۔ اس چھوٹی سی مسکراہٹ میں مجھے پورے چین کے مسلمانوں کا مستقبل دکھائی دیا۔ایک ایسا مستقبل جو خاموش، روشن، نرم اور مضبوط ہے۔

میں نے آہستگی سے اپنی ڈائری نکالی۔ قلم ہاتھ میں لیتے ہوئے یوں لگا جیسے لفظ خود بخود میرے اندر سے نکل کر صفحے پر بیٹھ جائیں گے۔ میں نے لکھا۔ سفر ہمیشہ منزل تک نہیں لے جاتا… کبھی کبھی سفر ہمیں خود تک لے آتا ہے۔
گوانگڑو کی اس مسجد نے مجھے بتایا کہ ایمان کا سفر راستوں سے نہیں، دلوں سے گزرتا ہے۔
اور اسلام کی روشنی جہاں بھی جاتی ہے، وہاں کے رنگوں، زبانوں، لوگوں کو یوں اپنے اندر سمو لیتی ہے جیسے کوئی خوشبو صبح کی ہوا کے ساتھ گھل جائے۔’’
میں نے مینار کی طرف آخری بار نگاہ اٹھائی۔ شام کی ہوا میں اذان کی ہلکی سی گونج ابھری۔ نہ بہت بلند، نہ بہت مدھم۔ بس اتنی کہ دل کے اندر ایک صاف جگہ بناتی چلی جائے۔
میں نے اس روشنی کو اپنے اندر سمیٹا، اور مسجد کے دروازے سے باہر آ گئی۔راستہ اب بھی وہی تھا، ہوا بھی وہی، مگر میں وہ نہیں رہی تھی۔
سفر ختم ہو گیا تھا۔مگر جو روشنی میں اپنے ساتھ لے جا رہی تھی وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ یہ تھا میرا گوانگڑو… اور اسلام کی اْس قدیم روشنی سے ملاقات کا بند ہوتا ہوا ورق۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں