چین کی سرزمین پر ایک پاکستانی لڑکی

ارم زہرا کون ہیں؟
ارم زہرا کراچی کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں، انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا ا ور روزنامہ “قومی اخبار” اور “دھوم چینل” میں خدمات انجام دیں۔ نثر نگاری میں نام پیدا کرنے کے بعد جب شاعری کی طرف رجوع کیا تو وہ کراچی کے مشاعروں کی ایک اہم ضرورت بن گئیں۔ حساس دل کی مالک ہونے کی وجہ سے انہوں نے انسانی جذبوں سے لبریز ایسی شاعری کی جو جلد ہی ادبی اور عوامی حلقوں میں مقبول ہو گئی۔ ہر مشاعرے میں ان کی پراثر شاعری کے لیے واہ واہ کی صدائیں گونجتیں۔ بھرپور عوامی پذیرائی نے ان کے حوصلے کو بلند کیا اور انہوں نے پانچ کتابیں لکھ ڈالیں، جن میں دو مجموعہ کلام *”اف اللہ”* اور *”دل کی مسند”* شامل ہیں۔شہرِ کراچی کے حوالے سے ان کی تخلیقات میں “میرے شہر کی کہانی” جیسا اہم ادبی کام شامل ہے، جب کہ ان کا ناول *”چاند میرا منتظر”* اور افسانوی مجموعہ *”آدھ کھلا دریچہ”* بھی قارئین میں خاصا مقبول ہوا۔ ارم زہرا ان دنوں چین میں مقیم ہیں اور اب *”کنزیومر واچ”* کے لیے ہفتہ وار کالم لکھیں گی، جو بنیادی طور پر ایک سفرنامہ ہے

کراچی ایئرپورٹ کی چمکتی دمکتی روشنیوں میں ایسا جادو ہے جو نہ صرف مسافروں کے قدموں کو نئی راہوں پر لے جانے کی دعوت دیتا ہے بلکہ دلوں میں ان کہی کہانیاں بنا دیتا ہے ۔ یہ وہی لمحہ تھا جب میں اور میرے شریک حیات ، ایک نئے سفر کی شروعات کرنے جا رہے تھے۔ ہماری منزل وہ دیس ہے جسے دنیا “چین ” کے نام سے جانتی ہے جہاں قدیم تہذیب کی خوشبو اور جدیدیت کی روشنی قدم , قدم پر محسوس ہوتی ہے چین کا نام سنتے ہی ہمیشہ میرے ذہن میں رنگ برنگی تصاویر ابھرتی تھیں پرانے بادشاہوں کے محلات، اونچی دیواریں، جدید ترین ٹیکنالوجی , قدیم دیوار چین کی بلندیاں، بلند و بالا پہاڑوں کا سلسلہ, آبشاریں جہاں قدرت اپنے جوبن پر نظر آتی ہے . میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ایک دن میں اس سرزمین کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھوں گی نا کہ ٹک ٹاک کی ریلیز پہ ….. اور جب یہ موقع آیا، تو میں نے اسے دل سے خوش آمدید کہا .کراچی ایئرپورٹ پر مسافروں کی جلد بازی کے ساتھ جذبات کا سمندر نظر آرہا تھا ۔ جہاں والدین کے آنسو، بچوں کی ہنسی، اور دوستوں کی دعائیں اپنے پیاروں کو رخصت کر رہی تھیں ، وہیں میں نے بھی اپنی بہنوں سے وداع لیا ۔ سب کچھ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی فلم چل رہی ہو۔ اور اس فلم کے مرکزی کردار ہم ہوں …. جہاز نے آہستہ , آہستہ رن وے پر حرکت کی، اور میں نے مسکراتے ہوئے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔ کھڑکی والی سیٹ پر میں ہمیشہ ہی قبضہ کر لیتی ہوں. شریک حیات بھی بخوبی جانتے ہیں جب میں معصومیت سے ہمیشہ وہی وعدہ دہراتی ہوں جو کبھی نبھانے کا ارادہ نہیں ہوتا ” واپسی پر آپ کی باری ! جیسے ہی جہاز نے فضا میں بلند ہونا شروع کیا، میں نے سفری دعائیں پڑھیں اور انہی دعاوں کے حصار میں تصوراتی خیالی دنیا میں حقیقت کے رنگ بھرنے لگی…. رات کے اندھیرے میں جہاز کی روشنیوں کا منظر، اور نیچے زمین پر بکھری روشنیوں کی قطاریں، سب کچھ کسی خوبصورت شاعری کا حصہ لگ رہا تھا۔ میں نے اپنے شریک حیات کی طرف دیکھا، جن کی آنکھوں میں مستقبل کے روشن امکانات نمایاں تھے .کراچی سے
بیجنگ کا سفر طویل مگر آرام دہ تھا۔ جیسے ہی جہاز بیجنگ کے قریب پہنچا، دنیا بدل چکی تھی۔ کھڑکی سے نظر آنے والے مناظر کسی اور ہی دنیا کی کہانی سنا رہے تھے۔ قدیم عمارتیں، جدید اسکائی اسکریپرز، اور ان کے درمیان پھیلے باغات۔ یہ شہر ایک عجیب امتزاج تھا، جہاں تاریخ اور جدیدیت نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ہوا تھا۔بیجنگ ایئرپورٹ پر اترتے ہی سرد ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ یہاں تو ہوا بھی لگتا ہے ویزہ لے کر آتی ہے ۔ میں نے صاف ستھری ہوا میں ایک طویل سانس لیتے ہوئے سوچا۔ ایئرپورٹ کی وسیع و عریض عمارتیں دیکھ کر دل میں ایک عجیب سی حیرت جاگی۔ چین واقعی وہ ملک ہے جہاں مستقبل کا ہر خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔۔ بیجنگ ایئرپورٹ، جو اپنی وسعت اور خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، واقعی کسی شاہکار سے کم نہیں تھا۔ ایئرپورٹ پر موجود ہر چیز نہایت منظم اور جدید تھی۔ ۔بیجنگ ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے ہم مستقبل کی کسی دنیا میں آ پہنچے ہوں۔ یہ صرف ایک ایئرپورٹ نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کا ایسا شاہکار ہے جہاں ہر چیز اپنی جگہ خودکار اور بے مثال ہے۔داخلے سے لے کر سامان کی ترسیل تک، ہر قدم پر جدت کے مظاہر دیکھنے کو ملے۔ روبوٹ گائیڈز خاموشی سے مسافروں کی مدد کرتے نظر آتے ہیں، اپنے روشن اسکرینوں پر نقشے اور راستے دکھاتے ہوئے، جیسے وہ انسانوں کی جگہ لینے کے لیے ہی بنائے گئے ہوں۔ چیک ان کا نظام مکمل طور پر خودکار تھا، جہاں صرف ایک بارکوڈ اسکین کروا کر آپ کی تمام معلومات کمپیوٹر کے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ نہ کوئی قطار، نہ کوئی پیچیدگی بس ایک اسکرین کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور باقی کام مشین خود کر لیگی. پھر سیکورٹی چیک کا مرحلہ آیا، جہاں نہ صرف جدید اسکینرز بلکہ مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹ بھی کام کر رہے تھے۔ چہرے کی شناخت کا نظام اتنا تیز تھا کہ پلک جھپکنے میں ہی آپ کی شناخت مکمل ہو جاتی ہے ایئرپورٹ کے اندرونی نظام کا ہر حصہ اتنا مربوط اور منظم تھا کہ ہر کام اپنی جگہ بالکل درست انداز میں انجام پا رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ماضی کی مشکلات کو مستقبل کی آسانیوں نے بدل دیا ہو۔یہاں ہمارا تین گھنٹے کا قیام تھا اس لئے اب بھوک کا احساس بھی شدت اختیار کر گیا … جہاز میں حلال کھانے کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہم نے سفر کے دوران صرف فروٹس پر گزارا کیا تھا۔ وہ سیب اور ڈرائی فروٹس جو جہاز کے عملے نے ہمیں بڑی محبت سے دیے تھے، کسی شاہی ضیافت سے کم نہ لگے۔ لیکن بیجنگ کے سرد موسم میں، یہ پھل کافی نہیں تھے۔ دل چاہ رہا تھا کہ کچھ گرم اور خوشبودار مل جائے، جو نہ صرف جسم کو بلکہ روح کو بھی سکون دے۔ہماری نظریں اسٹار بکس پر جا ٹھہریں۔ وہاں پہنچتے ہی کافی کی خوشبو نے ہمیں جکڑ لیا۔ ہم نے “کیپو چینو” کا آرڈر دیا اور جب کافی کا پہلا گھونٹ لیا تو ایسا لگا جیسے زندگی دوبارہ شروع ہو گئی ہو۔ گرم، کریمی، اور چاکلیٹ کے ہلکے ذائقے کے ساتھ یہ کافی، سردی اور تھکن دونوں کے لیے بہترین علاج تھی.”بیجنگ ایئرپورٹ پر قیام مختصر تھا، لیکن اس دوران میں نے محسوس کیا کہ یہ ملک واقعی ترقی کی ایک مثال ہے۔ میری اگلی پرواز وینزو کے لیے تھی، اور میرے دل میں تجسس مزید بڑھ رہا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ وینزو، جو اپنی کاروباری ذہانت اور قدیم روایات کے لیے مشہور ہے، دیکھتے ہیں مجھے کیا حیرتیں دکھائے گا … ؟”رات کا دوسرا پہر تھا، جب طیارے کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے مجھے وینزو کے جگمگاتے چراغ نظر آئے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے زمین پر ستارے بکھیر دیے ہوں۔ میں نے اپنے دل کو تیز دھڑکتا محسوس کیاایک نئی سرزمین، ایک نیا شہر، اور ایک نئی کہانی میرا انتظار کر رہی ہے , ہوا میں ایک عجیب سی خوشبو تھی، مجھے اپنے ارد گرد کسی قدیم روایت کی بازگشت محسوس ہورہی تھی.”میں نے اپنی یادداشت کی ڈائری میں لکھا : چین کے شہر وینزو کا سفر صرف راستوں کی کہانی نہیں ہوگا، بلکہ یہ وقت کے پردے میں چھپے ہوئے خوابوں کی تلاش کا سفر ہوگا۔”جیسے ہی طیارہ زمین پر اترا، میں نے اپنی گھڑی پر وقت دیکھارات کے تین بج رہے تھے، لیکن وینزو کے ایئرپورٹ پر زندگی جاگ رہی تھی۔ یہ شہر شاید کبھی سوتا ہی نہیں۔ میرے ارد گرد اجنبی زبانوں کی سرگوشیاں، مختلف ثقافتوں کی جھلکیاں اور ایک خاص قسم کا سکون تھا، جو کسی نئی جگہ پر پہنچنے پر ہی محسوس ہوتا ہے۔””ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔( جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں