چین کا نیوایئر،محض ایک جشن نہیں، دلچسپ حقائق

0

ارم زہرا

چین جسے دنیا کے نقشے پر ’’ابدی روشنیوں کی سرزمین‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، ہمیشہ سے ایک عجیب و غریب کشش کا مرکز رہا ہے۔ چین ایک ایسی زمین ہے جہاں قدیم روایات کی گونج جدید ترقی کی بلند عمارتوں میں محوِ رقص ہے مگر یہ سوال کہ ” کیا اس ترقی اور خوبصورتی کی قیمت یہاں کے عام انسان نے اپنے سکون سے چکائی ہے ” میرے ذہن میں ایک شعلہ بن کر جل رہا تھا۔ بیجنگ کی روشنیوں سے لبریز گلیاں، شنگھائی کی فلک بوس عمارتوں کی بلندیاں، اور ہانگ کانگ کی پررونق بندرگاہیں یہ سب کچھ میرے سامنے تھے، مگر میری نظر ان بازاروں کے اندر جھانکنا چاہتی تھی، جہاں شاید یہ روشنی کچھ مدھم ہو جاتی ہو۔آج بیجنگ کی سرد ہوا میں ایک عجب سی تازگی تھی، جیسے وقت تھم کر ایک قدیم داستان سنانے کو تیار ہو۔ میرے ارد گرد روشنیوں کا ایک سمندر تھا، دکانوں کے رنگین بورڈ، اشتہارات کی جگمگاہٹ، اور لوگوں کا بے ہنگم ہجوم مگر میرے دل میں ایک ہی سوال تھا ” کیا یہ چمک دمک، یہ خوبصورتی اور یہ ترقی، سب کی زندگی کا حصہ ہے یا صرف خوش نصیبوں کا؟ ” کیا یہاں کا غریب بھی ان روشنیوں کے پیچھے اپنی چھوٹی سی دنیا میں سکون سے جی رہا ہے، یا یہ سب محض ایک دکھاوا ہے ؟ میں بیجنگ کے مشہور وانگ فوجنگ بازار کی روشنیوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ ہر طرف جگمگاتی دکانیں، سرخ فانوسوں کی قطاریں، اور اشتہارات کے روشن بورڈز جیسے چمکتے ستارے ہوں نظر آرہے تھے ہوا میں مختلف کھانوں کی خوشبوئیں تیر رہی تھیں، اور لوگ اپنے اپنے سامان کی طرف لپکے جا رہے تھے۔ مگر میری آنکھیں اس چمک دمک کے پیچھے چھپے چین کو دیکھنے کی متلاشی تھیں۔ان دنوں یہاں کی مارکیٹس میں چینی نئے سال کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ ہر دکان کے باہر سرخ اور سنہری فانوس، ڈریگن کے مجسمے، اور “خوشحالی” کے سنہری حروف چمک رہے تھے۔ بچے خوشی سے قلقاریاں مارتے ہوئے اپنے والدین کے ساتھ کھلونوں کی دکانوں پر کھڑے تھے۔ میں ایک طرف کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی کہ میری نظر ایک بوڑھی عورت پر پڑی جو گلی کے کونے میں بیٹھ کر ہاتھ سے بنے کھلونے بیچ رہی تھی۔ اس کے چہرے کی جھریوں میں وقت کی کہانی لکھی ہوئی تھی، اور آنکھوں میں ایک عجیب سی تھکن چھپی تھی۔ میرا دل چاہا کہ اس کی کہانی سنوں، مگر چینی زبان نہ جاننے کی وجہ سے میں جھجک رہی تھی۔ پھر اپنے موبائل پر ترجمہ ایپ کھولی اور ہچکچاتے ہوئے کہا، “آپ یہ کھلونے خود بناتی ہیں؟” وہ میری ٹوٹی پھوٹی کوشش پر مسکرائی اور سر ہلاتے ہوئے جواب دیا، جسے ایپ نے یوں ترجمہ کیا: “ہاں، بیٹا۔ یہ ہمارے گزر بسر کا سہارا ہے۔” میں نے دوبارہ پوچھا، “کیا مہنگائی نے آپ کی زندگی کو مشکل بنایا ہے؟” وہ ہنسی، مگر اس ہنسی میں دکھ کی جھلک تھی۔ کہنے لگی، “زندگی تو مشکل ہے، مگر ہماری حکومت ہمیں سہارا دیتی ہے۔ چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے یہاں بڑی رعایتیں ہیں۔” میں نے محسوس کیا کہ چین کی ترقی کی مشینری محض فیکٹریوں اور بلند عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ یہاں کا عام آدمی بھی اس میں شریک ہے۔ بڑے شہروں میں غریبوں کے لیے کم قیمت بازار، سبسڈی والے کھانے، اور صحت کی سہولتیں موجود ہیں۔ مگر یہ ترقی ہر جگہ ایک جیسی نہیں۔ دیہی علاقوں میں لوگ اب بھی سادہ زندگی گزار رہے ہیں، جہاں وقت شاید اتنی تیزی سے نہیں بدلا جتنا شہروں میں…چین کی حکومت نے غربت کے خلاف اپنی جدوجہد کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا تھا جو اپنی مثال آپ ہے۔ مٹی کی جھونپڑیوں کو خوبصورت، جدید اپارٹمنٹس میں بدل دیا گیا تھا، جن کے باہر سرخ لالٹینیں ہوا میں جھول رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے زندگی نے یہاں اپنے رنگوں سے نیا آغاز کیا ہو۔
چین کی حکومت نے اپنی عوام کو صرف مکان ہی نہیں دیے بلکہ زندگی کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔ گاؤں اور دیہات کے بچوں کو شہروں کے اسکولوں میں داخل کرایا گیا، جہاں وہ اپنے خوابوں کو ایک نئی حقیقت میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔چینی عوام اور حکومت کے تعلق کو دیکھ کر مجھے وہ قصہ یاد آیا جب ایک دوست نے کہا تھا، “چین میں لوگ حکومت سے ڈرتے نہیں، بس اس سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔” یہ بات سچ ہے، کیونکہ یہاں ہر شخص اپنی محنت سے آگے بڑھنا چاہتا ہے، اور حکومت انہیں مواقع فراہم کرتی ہے۔ مگر یہ مواقع بعض اوقات ایک دوڑ میں بدل جاتے ہیں، جہاں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔چین کی موجودہ معیشت، جسے دنیا “دنیا کی ورکشاپ” کہتی ہے، واقعی حیرت انگیز ہے۔ ہر طرف ترقی کا شور ہے، مگر یہ شور کبھی کبھی انسانی جذبات کو دبانے لگتا ہے۔
چین کی سرزمین پر جنوری کے ان دنوں میں، جب برف کے نرم گالے ہوا کے سنگ اپنی منزل کی تلاش میں اترتے ہیں، ہر طرف ایک عجیب سی گہما گہمی دکھائی دیتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب چین کا نیا سال قریب آ رہا ہوتا ہے۔ نیو ایئر، جو یہاں اسپرنگ فیسٹیول کہلاتا ہے، درحقیقت ایک خواب کی طرح ہے، جسے دیکھنے کے لیے لاکھوں لوگ اپنے گاؤں اور شہروں کا رخ کرتے ہیں۔چینی نیا سال، جسے وہ ‘‘چونگ جے’’ یا ‘‘اسپرنگ فیسٹیول’’ کہتے ہیں، ایک منفرد اور دلکش تہوار ہے جو چین کی سرزمین پر ہر سال ایک نیا رنگ اور نیا جذبہ لے کر آتا ہے۔جسے ایک نئے قمری سال کی شکل میں تسلیم کیا جاتا ہے۔چینی نئے سال کا آغاز چاند کے نئے مہینے سے ہوتا ہے، اور یہ کبھی بھی 21 جنوری سے 20 فروری کے درمیان کسی بھی تاریخ کو آ سکتا ہے۔ قمری کیلنڈر کے مطابق، ہر سال ایک نیا مہینہ چاند کے نئے دن سے شروع ہوتا ہے، اور اس دن چین میں ایک نیا آغاز ہوتا ہے۔ اس دن، سڑکوں پر لال لال دیے، رنگین جھنڈے اور برکت کی دعائیں نظر آتی ہیں، جیسے یہ سب کسی نئے سفر کا آغاز ہواور پھر آتا ہے، چین کا زودیاک جانور، جو ہر سال بدلتا ہے۔ چاہے وہ ڈریگن ہو، سانپ ہو یا چوہا، ہر جانور اپنے اندر ایک خاص راز چھپائے ہوتا ہے۔ یہ جانور نہ صرف چینی ثقافت میں فرد کی شخصیت اور تقدیر کا عکاس ہوتے ہیں، بلکہ ایک نئے سال کی شروعات کی علامت بھی ہوتے ہیں کیونکہ چینی کیلنڈر ہر سال کسی نہ کسی جانور کے نام کر دیا جاتا ہے۔ اس سال کی باری ” لکڑی کے سانپ ” کی تھی، اور مجھے بتایا گیا کہ ” لکڑی کے سانپ کی نظر ہمیشہ آگے کی طرف ہوتی ہے جو مستقبل کے لیے حکمت اور دور اندیشی سے قدم اٹھانے کی دعوت دیتا ہے “جب میں نے چینی کلینڈر کے مطابق نئے سال کا آغاز دیکھا۔ تو میں حیران رہ گء , ہم سب جانتے ہیں کہ ہر سال کا بارہ مہینیکا چکر کیا ہوتا ہے، مگر جو بات مجھے سب سے زیادہ حیران کن لگی، وہ یہ تھی کہ یہاں ہر سال کا تعلق نہ صرف ایک جانور سے ہوتا ہے، بلکہ اس جانور کے ساتھ پانچ بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر بھی جڑا ہوتا ہے۔ جیسے 2024 تھا لکڑی کے اڑدھے کا سال، اور 2025 ہے لکڑی کے سانپ کا سال۔چینی کیلنڈر کیمطابق لکڑی کے سانپ کا سال آنا ایک طرح سے ایک نئے سرے سے زندگی کی بگڑتی ہوئی حالتوں کو درست کرنے کا وقت ہوتا ہے، گویا کہ ہمیں نئی سمت میں چلنے کی ضرورت ہے۔نیو ایئر کی آمد کا سب سے بڑا اعلان گلیوں میں لٹکتی لالٹینیں کرتی ہیں۔ لال رنگ یہاں خوشحالی اور خوشی کا استعارہ ہے، اور ہر دروازے پر سرخ کاغذ کی تختیاں آویزاں ہوتی ہیں۔ چینی نیو ایئر کی ایک اور خاص بات , وہ بے پناہ چھٹیاں ہیں جو اس تہوار کے دوران ملتی ہیں۔ پورے ملک میں سات دن کا سرکاری جشن منایا جاتا ہے . تحفے تقسیم کئے جاتے ہیں. نیو ایئر کی سب سے بڑی روایت وہ لمبی مسافتیں ہیں، جو لوگ اپنے گاؤں اور خاندانوں تک
پہنچنے کے لیے طے کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی انسانی مائیگریشن انہی دنوں میں ہوتی ہے، جب شہروں کے ریلوے اسٹیشن لوگوں کے ہجوم سے بھر جاتے ہیں۔ رات کے وقت، ہر طرف پٹاخوں کی گونج اور روشنیوں کا سماں ہوتا ہے۔ ایک قدیم عقیدہ ہے کہ یہ پٹاخے بدروحوں کو ڈراتے ہیں۔ میں نے ایک بزرگ سے پوچھا، “یہ بدروحیں کب آتی ہیں؟” وہ مسکرا کر بولے، “جب لوگ انہیں بلاتے ہیں!” اس طرح کی من گھڑت کہانیاں سننا چین میں عام بات ہے… چینی نیو ایئر کی سب سے دلچسپ روایت ریڈ انویلپ کی ہے، جنہیں یہاں “ہونگ باؤ” کہا جاتا ہے۔ ان سرخ لفافوں میں بزرگ بچوں کو پیسے دیتے ہیں۔چین کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں نئے سال کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں , جہاں مختلف ثقافتی پروگرامز، موسیقی کے کنسرٹس اور روایتی رقص کے ذریعے جشن منایا جاتا ہے۔چین میں رہتے ہوئے، نئے سال کی یہ رنگینیاں میرے لیے ہر بار ایک نئی کہانی بْن دیتی ہیں۔ سرخ لفافوں کی گرم جوشی، روشنیوں کی جگمگاہٹ، اور چہروں کی خوشی نے مجھے سکھایا کہ تہوار کا سب سے بڑا تحفہ تعلقات کی مٹھاس ہے۔ یہاں میں نے جانا کہ چینی نیا سال محض ایک جشن نہیں، بلکہ زندگی کو نئے خوابوں اور امیدوں کے ساتھ جینے کا اعلان ہے۔ اور ہماری زندگی بھی تو نئے سال کی طرح ہے , ہر اختتام ایک نئی شروعات کی دعوت دیتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں