چین میں قیام کا دوسرا سورج طلوع ہوچکا تھا۔ بارش مسلسل برس رہی تھی، جیسے آسمان اپنے راز زمین پر کھول رہا ہو۔ کل مسٹر چاؤ نے کہا تھا کہ یہاں چھتری کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں، اور آج یہ بات سچ ثابت ہو رہی تھی۔ بارش کے نرم قطرے میرے وجود کو بھگو رہے تھے، اور میں سوچ رہی تھی کہ شاید یہ سرزمین اپنے مسافروں کو خوش آمدید کہنے کا یہی طریقہ رکھتی ہے۔
لیکن خوش آمدید کہنے کے اس انداز میں ایک چیلنج بھی تھا۔ ہمیں حلال کھانے کی تلاش تھی، جو کسی بھی اجنبی ملک میں ایک مسلمان کے لیے اولین ترجیح ہوتی ہے۔ میرے ہسبینڈ کے ایک کولیگ نے بتایا کہ یہاں ایک حلال ریستوران ہے جس کا نام ’’ ابو دو‘‘ ہے اور یہ خبر ہمارے لیے نعمت سے کم نہیں تھی۔ بارش میں بھیگتے ہوئے، ہم اس ریستوران کی سمت روانہ ہوئے، دل میں ایک عجیب سی خوشی اور بے چینی لیے کہ شاید ان کے کھانے کا ذائقہ پاکستان کی یادوں کو زندہ کر دے۔
راستے میں وینزو کی گلیاں ہمارے قدموں کے نیچے جیسے زندہ تھیں۔چمکتی سڑکیں ،آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں ہر منظر، اور ہر اجنبی چہرہ اپنے اندر کئی کہانیاں چھپائے ہوئے تھا۔ بارش کے ساتھ ان گلیوں کی خاموشی اور گہرائی کچھ ایسی تھی کہ گویا وقت رک سا گیا ہو۔ اور ہم اجنبی مسافر کی طرح ان کہانیوں کا حصہ بننے جا رہے ہوں
یہ سفر صرف حلال کھانے کی تلاش کا نہیں تھا۔ یہ اپنے آپ کو ایک نئی دنیا میں ڈھالنے کا، اجنبیوں میں اپنے لیے جگہ بنانے کا، اور ان تجربات کو اپنے دل میں محفوظ کرنے کا تھا جو زندگی کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔
گو کہ ‘چین ‘ ، کا ہر منظر ایک داستان سناتا ہے اور ہر گلی ایک خواب دکھاتی ہے، یہاں سب سے بڑا چیلنج زبان کا تھا۔ میں نی ہاؤ اور ششی کے درمیان ایسی گم تھی جیسے باقی دنیا کسی اور سیارے پر جا بسی ہو۔ یہاں نہ گوگل چلتا ہے ,نہ یوٹیوب، نہ فیس بک اور نہ انسٹاگرام۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی قدیم بادشاہ کے قلعے میں قید کر دیے گئے ہوں جہاں باہر کی دنیا سے رابطہ صرف ایک خفیہ پیغام رساں کبوتر کے ذریعے ممکن ہو۔
یہاں ’’وی چیٹ‘‘ تھا، جو ہر مقامی شخص کے لیے زندگی کا دوسرا نام تھا۔ اور ’’علی پے‘‘ تو جیسے ان کی رگوں میں دوڑتا خون تھا، بغیر اس کے نہ کھانے کو کچھ ملتا ہے اور نہ رہنے کی جگہ، میں اپنے پرس میں موجود کیش کو حسرت سے دیکھ رہی تھی ، جو زمانہ قدیم کے سکوں کی طرح بیکار ہو چکا تھا۔
یہاں زبان کا مسئلہ ایسا ہے کہ آپ اگر ’’واش روم‘‘ کا پوچھیں، تو لوگ آپ کو ’’گرین ٹی‘‘ کی طرف لے جائیں۔ اور اگر کھانے کے لیے ’’چکن‘‘ طلب کریں، تو آپ کے سامنے ایک مسکراتا ہوا چہرہ کچن لے آئے۔ ہر بات کو سمجھانے کے لیے گوگل ٹرانسلیٹ کو استعمال کیاجاتا ، جو اکثر خود بھی بے بس ہو کر کوئی ایسا ترجمہ کرتا کہ ہم سوچتے، شاید یہ چینی زبان کا کوئی شاعرانہ پہلو ہے۔اور یہ شاعرانہ انداز بغیر وی پی این کے مکمل نہیں ہوسکتا…
یہاں کیش کے سارے معاملات ’’علی پے‘‘ ایپ کے ذریعے حل ہوتے ہیں ، ایک موبائل ایپ جس کے بغیر آپ ایک گلاس پانی بھی نہیں خرید سکتے۔ کوئی پھل لینا ہو، ٹیکسی کرنی ہو یا کافی کا کپ پینا ہو، ہر جگہ موبائل فون کا بارکوڈ اسکین ہوتا ہے، اور رقم “چْپ چاپ” ڈیجیٹل دنیا میں غائب ہو جاتی ہے۔
میں نے سوچا اب ہم بھی ایپ کی دنیا کے مسافر بن جاتے ہیں “، لیکن پھر اگلا دھچکا وی چیٹ نے دیا۔ یہاں کی دنیا وی چیٹ پر گھومتی ہے، بات چیت ہو، بل ادا کرنا ہو یا راستہ پوچھنا ہو، سب کچھ وی چیٹ سے ہوتا ہے۔ جسے ایکٹیویٹ کرنے کے لیے پہلے چائنیز سم خریدنی ہوتی ہے …
چین میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ زبان کا مسئلہ ہے ۔
یہاں بات چیت کا سادہ طریقہ ترجمہ ہے، گویا آپ کسی غیر ملکی ملک میں نہیں، بلکہ ایک عالمی زبانوں کے میلے میں کھڑے ہیں۔ ایک طرف آپ کی موبائل ایپ میں ٹرانسلیٹر کھلا ہوتا ہے اور دوسری طرف آپ کے سامنے چینی زبان کا ایک سمندر، جو سمجھ نہیں آتا مگر اس میں غوطے لگانے پڑتے ہیں۔
چین میں قدم رکھتے ہی جو سب سے پہلا لفظ آپ سیکھتے ہیں وہ ’’نی ہاؤ‘‘ ہوتا ہے، جو کہ ’’ہیلو‘‘ کے مترادف ہے، اور پھر ’’ششی‘‘ آ جاتا ہے، جو ’’شکریہ‘‘ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ دو الفاظ ہی چین میں آپ کے تمام تر سماجی تعلقات کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ باقی کی باتیں گوگل ترجمہ یا ہاتھوں کے اشاروں پر منحصر ہوتی ہیں۔
ز بان کے مسائلستان سے تو خیر نکل نہیں سکتے مگر سب سے زیادہ دل تب ٹوٹا جب معلوم ہوا کہ یہاں یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، اور گوگل سب بند ہیں۔ یہ تو ایسا ہی تھا جیسے کسی پرندے کو پنجرے میں ڈال دیا جائے اور کہا جائے، “اب گنگناؤ!” فارنرز کے لیے یہ سب کسی امتحان سے کم نہیں۔ لیکن چین کی یہ دنیا، اپنی تمام تر عجیب و غریب پابندیوں اور اصولوں کے ساتھ، اتنی مختلف اور منفرد ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ جیسے کسی پرانی کتاب کا صفحہ پلٹ رہا ہو، جہاں ہر چیز آپ کے فہم سے بالاتر ہو، لیکن پھر بھی دلکش۔
خیر، بات ہو رہی تھی حلال ریستوران تک پہنچنے کی، ہماری چینی لغت ابھی دو الفاظ سے زیادہ نہیں تھی اور گوگل پر پابندی نقشوں اور ترجموں سے محروم کر رہی تھی. …
بحرحال ٹیکسی کی مدد سے ہم اس مشہور مسلم ریستوران تک پہنچ ہی گئے۔ یہ جگہ نہ صرف وینزو بلکہ پورے چین میں اپنی خاص شہرت رکھتی ہے۔ یہاں کے باربی کیو، نان، چائنیز نوڈلز کا ذکر ہر مسافر کی زبان پر ہوتا ہے جو حلال کھانے کی تلاش میں ہوتا ہے۔
ریستوران میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ ماحول نہایت دلکش تھا، اور ترکی انداز کی ڈیکوریشن نے ایک الگ ہی رنگ جما رکھا تھا۔ دیواروں پر خطاطی کے نمونے اور چھت سے لٹکتے خوبصورت فانوس دل کو بھلے لگ رہے تھے۔ فانوسوں کی روشنی مدھم مگر پرکشش تھی، اور ترکی طرز کی آرائش نے ایک ایسا احساس دیا جیسے ہم کسی قدیم شاہی محل میں قدم رکھ چکے ہوں۔ میزوں پر صاف ستھری
ترتیب کے ساتھ پانی کے جگ رکھے تھے، جن میں لیموں کے چند سلائسز تیر رہے تھے۔ یہ ایک ایسی روایت تھی جو دل کو خوش کر دیتی ہے کہ پانی خریدنا نہیں پڑتا۔ چین کے تقریباً ہر ریستوران میں یہی معمول ہے کہ پانی کا جگ اور ساتھ میں گرین ٹی مفت پیش کی جاتی ہے۔ گرین ٹی کا ذائقہ گلاب کی پتیوں جیسا تازگی بھرا تھا، اور یہ پیشکش کسی بھی ریستوران یا حتیٰ کہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں بھی انتہائی کم قیمت یا بلا معاوضہ ملتی ہے۔
یہاں کی گرین ٹی اور پانی صرف پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسی روایت کی عکاسی کرتے تھے جو چینی مہمان نوازی کی بنیاد ہے۔ جیسے ہی ہم نے باربی کیو اور نوڈلز کا آرڈر دیا، کچن سے آتی خوشبو نے بھوک کو اور بڑھا دیا۔ اس ریستوران کا ماحول ایسا تھا جیسے آپ کسی اجنبی جگہ پر نہیں بلکہ اپنے کسی قریبی دوست کے گھر بیٹھے ہوں۔
کھانے کی پلیٹیں جب میز پر آئیں تو وہ ذائقے اور خوشبو کے لحاظ سے ہماری توقعات سے بڑھ کر تھیں۔ باربی کیو کے مسالے اور نوڈلز کا ذائقہ منفرد اور مزیدار تھا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہم اپنے وطن کے کسی ریستوران کے ذائقے چکھ رہے ہوں۔
لیکن کہانی میں ایک نیا موڑ آیا جب ہمیں چوپ اسٹکس کے ساتھ کھانے کا سامنا ہوا۔ یہ باریک لکڑی کی چھڑیاں ہمارے لیے کسی معمہ سے کم نہ تھیں۔ ہر نوالہ لینے کی کوشش کے ساتھ ہی کھانے کا ٹکڑا فرار ہونے کی کوشش کرتا۔ چند منٹوں کی جدوجہد کے بعد، ہم نے ہتھیار ڈال دیے اور آخرکار ویٹر کو ریکویسٹ کی کہ بھائی، ہمیں چمچ اور کانٹے لا دیں، ورنہ آج کھانے کے بغیر ہی لوٹنا پڑے گا۔
ویٹر مسکراتے ہوئے چمچ اور کانٹے لے آیا، یوں لگتا تھا جیسے ہم نے کوئی بڑی جنگ جیت لی ہو۔ چمچ ہاتھ میں آتے ہی کھانے کا لطف دوگنا ہو گیا۔ نوڈلز اور باربی کیو کے ذائقے نے ہمیں مکمل طور پر مسحور کر دیا۔
یہاں کھانے کے دوران یہ احساس شدت سے ہوا کہ مسلم ریستوران نہ صرف کھانے کے ذائقے کے لیے مشہور ہیں بلکہ ان کی گرم جوشی اور مہمان نوازی بھی انہیں خاص بناتی ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں زبان اور کلچر کی تمام رکاوٹیں ختم ہو گئیں، اور صرف کھانے کا مزہ اور مہمان نوازی باقی رہ گئی۔
ریستوران سے باہر نکلتے ہی بارش نے ہمیں ایک بار پھر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چھتری تانے ہم وینزو کی صاف ستھری، چمکتی ہوئی سڑکوں پر چلنے لگے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہاں کی بارشیں بھی اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں صرف زمین کو نہیں دھوتیں بلکہ ہر چیز کو تازگی کا ایک نیا رنگ دیتی ہیں۔ بازاروں کی ترتیب، دکانوں کی چمک، اور سڑکوں کی صفائی نے ہمیں حیران کر دیا۔ یہ سب کچھ اتنا بے عیب اور منظم تھا کہ جیسے کسی خوبصورت خواب کا حصہ ہو۔
لیکن یہ سوال ہمارے ذہن میں بار بار آ رہا تھا ” کیا یہ صفائی اور خوبصورتی مہنگائی کی قیمت پر آتی ہے؟ ” کیا چین میں زندگی جتنی دلکش نظر آتی ہے، اتنی ہی مہنگی بھی ہے؟
یہ سوالات ہمیں گلیوں اور بازاروں کی کھوج کی طرف لے جا رہے تھے۔ کیا چین کی صفائی، نظام، اور ترقی کی قیمت یہاں کے لوگوں کے لیے بوجھ ہے، یا یہ سب کچھ ایک مثالی توازن کا نتیجہ ہے؟ اگلی قسط میں ہم چین کے بازاروں کی روشنیوں اور ان کی حقیقتوں کو کھوجیں گے،
اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا یہ دلکش منظر مہنگائی کے پردے میں چھپا ہوا ہے یا واقعی حقیقی خوشحالی کا عکس ہے۔
تو انتظار کیجیے، کیونکہ یہ کہانی ابھی باقی ہے۔
چین میں یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، اور گوگل کے بغیر زندگی کاتجربہ
