پاکستان افریقہ اکنامک کونسل: امکانات سے عمل تک کا سفر……شیخ راشد عالم

دنیا تیزی سے اقتصادی تعلقات کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اب طاقت صرف عسکری یا سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ معاشی تعاون اور تجارتی تعلقات پر استوار ہوتی ہے۔ ایسے میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کا قیام ایک خوش آئند اور بصیرت افروز قدم ہے۔ یہ محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک سوچ ہے، ایک وژن ہے جو پاکستان کو افریقہ کی ابھرتی ہوئی منڈیوں سے جوڑنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ میں اس اقدام کو پاکستان کی اقتصادی سمت میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھتا ہوں ایک ایسا باب جو اگر درست حکمتِ عملی سے آگے بڑھایا جائے تو آنے والے برسوں میں ملک کی معیشت کو ایک نئی شناخت دے سکتا ہے۔
پاکستان اور افریقہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ پرانی ضرور ہے مگر اس کی معاشی جہت ابھی پوری طرح اجاگر نہیں ہوئی۔ افریقہ کے پاس قدرتی وسائل کی فراوانی ہے، نوجوان آبادی کی اکثریت ہے، اور ترقی کی بے پناہ گنجائش ہے۔ دوسری جانب پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس صنعتی ڈھانچہ، افرادی مہارت اور کاروباری ذہانت موجود ہے۔ اگر یہ دونوں خطے ایک منظم حکمتِ عملی کے ساتھ تعاون بڑھائیں تو نتائج صرف تجارتی سطح پر نہیں بلکہ سماجی و اقتصادی تبدیلی کی صورت میں بھی سامنے آئیں گے۔
پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ دونوں خطوں کے درمیان تعلقات کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم رسمی ملاقاتوں یا وقتی معاہدوں سے آگے بڑھ کر ایسے مستقل میکنزم تیار کریں جو تجارتی تعلقات کو دیرپا بنا سکیں۔ یہ کونسل نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گی بلکہ کاروباری معلومات، قانونی فریم ورک، اور اعتماد سازی کے عمل کو بھی مضبوط بنائے گی۔
افریقہ کے بارے میں ایک غلط فہمی عام ہے کہ وہ محض امداد یا بیرونی سرمایہ پر انحصار کرنے والا براعظم ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ افریقہ اس وقت دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطوں میں شامل ہے۔ نائجیریا، کینیا، جنوبی افریقہ، ایتھوپیا اور گھانا جیسے ممالک اپنی مضبوط داخلی منڈیوں، توانائی کے ذخائر اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے سبب بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے مرکزِ توجہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اگر درست وقت پر قدم اٹھاتا ہے تو یہ ایک تاریخی موقع ہوگا۔
بدقسمتی سے پاکستان کی تجارتی پالیسی ماضی میں محدود دائرے میں رہی۔ ہم نے زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ، چین اور یورپی منڈیوں تک اپنے روابط محدود رکھے، جبکہ افریقہ جیسے براعظم کو نظرانداز کیا گیا۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اور ابھرتی ہوئی معیشتیں افریقہ میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔ چین کا “بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبہ ہو یا خلیجی ممالک کی زراعت و توانائی میں سرمایہ کاری، سب افریقہ کی طرف متوجہ ہیں۔ ایسے میں پاکستان اگر پیچھے رہا تو یہ ایک بڑی حکمتِ عملی کی غلطی ہوگی۔
پاکستان افریقہ اکنامک کونسل اس خلا کو پْر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس فورم کے ذریعے پاکستانی تاجر، صنعتکار، اور سرمایہ کار افریقہ کی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو منظم انداز میں قائم کر سکیں گے۔ اسی طرح افریقی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے محفوظ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ دوطرفہ تعاون نہ صرف تجارت بڑھائے گا بلکہ دونوں خطوں کے درمیان سیاسی اور ثقافتی تعلقات کو بھی مستحکم کرے گا۔
اس کونسل کے قیام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ پاکستان کے نجی شعبے کو عالمی سطح پر متحرک کرے گا۔ ہمیں اب سرکاری معاہدوں یا امداد کے ماڈل سے نکل کر پرائیویٹ سیکٹر کو مرکزی کردار دینا ہوگا۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو افریقہ کی زراعت، ٹیکسٹائل، تعمیرات، توانائی، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں شمولیت کے لیے تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے میدان میں بھی دونوں خطوں کے درمیان شراکت کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل مستقبل کے ایک بڑے وژن کی علامت ہے۔ یہ وژن محض تجارت کا نہیں بلکہ ترقی کے اشتراک کا ہے۔ افریقہ کے پاس وسائل ہیں، پاکستان کے پاس مہارت اور افرادی قوت۔ جب یہ دونوں قوتیں ملیں گی تو ایک نئی اقتصادی حقیقت جنم لے گی۔ لیکن یہ خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب پاکستان پالیسی کی سطح پر تسلسل، شفافیت اور عملی حمایت فراہم کرے۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس کونسل کو صرف کارپوریٹ سرگرمیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے تعلیمی اور تحقیقی سطح پر بھی وسعت دینی چاہیے۔ یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکس، اور تجارتی اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔ ہمیں افریقہ کے سیاسی و اقتصادی ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے تحقیقی تعاون بڑھانا ہوگا۔ اس کے بغیر کاروباری منصوبے محض خواب ہی رہیں گے۔
پاکستان کے سرمایہ کاروں کے لیے افریقہ میں سرمایہ کاری کے خطرات ضرور موجود ہیں مگر مواقع ان سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ مواقع صرف وہی حاصل کر سکتے ہیں جو طویل مدتی وژن رکھتے ہیں۔ افریقہ اب ماضی کا وہ خطہ نہیں رہا جہاں صرف مسائل کی بات کی جاتی تھی۔ آج وہاں امکانات، استحکام اور ترقی کے نئے دروازے کھل چکے ہیں۔
آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کا قیام محض ایک رسمی اقدام نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ اگر نیت اور نظم و ضبط کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو آنے والے وقت میں پاکستان کی معیشت کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ ہمیں اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اپنی معیشت کو عالمی تناظر میں نئے خطوط پر استوار کرے اور افریقہ کے ساتھ تعلقات کو ایک پائیدار شراکت داری میں تبدیل کرے۔
یہ کونسل ایک خواب ہے مگر وہ خواب جو حقیقت بن سکتا ہے اگر ہم اسے عزم، عقل اور عملی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ افریقہ ہمارا مستقبل کا شراکت دار ہے، اور پاکستان اس شراکت داری کا قدرتی مرکز یہی سوچ آج کے پاکستان کو ایک روشن اقتصادی کل کی طرف لے جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں