نسل نو کو فنون لطیفہ کی جانب راغب کیسے کیا جائے….ڈاکٹر شکیل حیدر

فنون لطیفہ انسانی تہذیب و ثقافت کا اہم ترین ورثہ ہیں جو معاشرے کی روحانی اور جمالیاتی ترقی کا ذریعہ ہے۔ تاہم موجودہ دور میں نئی نسل کا رجحان فنون لطیفہ سے دور ہوتا جا رہا ہے جس کی متعدد وجوہات ہیں۔ اس مضمون میں ہم نسل نو کو فنون لطیفہ کی جانب راغب کرنے کے مؤثر طریقوں پر روشنی ڈالیں گے۔
تعلیمی نظام میں فنون لطیفہ کی اہمیت
فنون لطیفہ کی طرف رغبت پیدا کرنے کا پہلا زینہ تعلیمی ادارے ہیں۔ ہمارے موجودہ تعلیمی نظام میں فنون لطیفہ کو ثانوی حیثیت حاصل ہے جبکہ اسے مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اسکولوں میں مصوری، موسیقی، نقالی اور دیگر فنون کے لیے باقاعدہ ورکشاپس کا انعقاد، ماہرین فن کی آمد، اور عملی سرگرمیوں کو نصاب کا حصہ بنانا نہایت ضروری ہے۔ طلباء میں فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے ہاؤس آف کَلچر کا قیام ایک مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور فنون لطیفہ کا ہم آہنگ استعمال
آج کی نسل ٹیکنالوجی سے گہرا لگاؤ رکھتی ہے۔ فنون لطیفہ کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کر کے نئی نسل کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مصوری کو ڈیجیٹل آرٹ میں تبدیل کرنا، موسیقی کو جدید سافٹ ویئر کے ذریعے سیکھنا، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فن پاروں کی نمائش جیسے اقدامات نوجوانوں کو فنون لطیفہ کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے آرٹ گیلریز کا دورہ، آن لائن فن کے کورسز، اور سوشل میڈیا پر فنکارانہ سرگرمیوں کی تشہیر اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
خاندانی ماحول کا کردار
فنون لطیفہ کی طرف رغبت پیدا کرنے میں خاندانی ماحول بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر گھر کا ماحول فنون لطیفہ سے متعلق سرگرمیوں کا حامل ہو گا تو بچوں میں فطری طور پر اس طرف میلان پیدا ہو گا۔ والدین اپنے بچوں کو مصوری کے آلات، ساز، اور ادبی کتابیں فراہم کر کے ان میں فنون لطیفہ کے لیے دلچسپی پیدا کر سکتے ہیں۔ خاندانی سطح پر فنون لطیفہ کی محفلوں کا انعقاد، فنکاروں سے ملاقاتیں، اور آرٹ گیلریوں کے دورے بچوں کے ذوق کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
معاشرتی رویوں میں تبدیلی
معاشرے میں فنون لطیفہ کو غیر عملی اور غیر مفید سمجھنے کا رجحان عام ہے۔ اس رویے میں تبدیلی لانا نہایت ضروری ہے۔ معاشرے کو یہ باور کرانا ہو گا کہ فنون لطیفہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی ذہنی اور روحانی تربیت کا اہم ترین وسیلہ ہیں۔ فنون لطیفہ کے ذریعے انسان میں حساسیت، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ پیدا ہوتی ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
فنکاروں کی سرپرستی اور معاشی تحفظ
نئی نسل کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فنکاروں کی مناسب سرپرستی کی جائے اور انہیں معاشی تحفظ فراہم کیا جائے۔ جب نوجوان دیکھیں گے کہ فنون لطیفہ سے وابستہ افراد معاشی طور پر مستحکم ہیں تو وہ اس طرف راغب ہوں گے۔ حکومتی اور نجی سطح پر فنکاروں کے لیے اسکالرشپس، گرانٹس، اور مالی امداد کے پروگراموں کا انعقاد اس سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
میڈیا کا کردار
میڈیا عوامی رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا کے ذریعے فنون لطیفہ کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنا نئی نسل میں اس کے لیے دلچسپی پیدا کر سکتا ہے۔ فنون لطیفہ سے متعلق ڈاکیومنٹریز، پروگرامز، اور انٹرویوز کا اجرا، فنکاروں کی کامیابیوں کی تشہیر، اور فنون لطیفہ کے مقابلوں کا انعقاد اس سلسلے میں میڈیا کے اہم فرائض میں شامل ہیں۔
ثقافتی مراکز کا قیام
ہر شہر میں ثقافتی مراکز کا قیام نئی نسل کو فنون لطیفہ سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہو سکتا ہے۔ یہ مراکز مختلف فنون کی تربیت، نمائشوں، لیکچرز اور ثقافتی تقریبات کا مرکز بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک لائبریریوں میں فنون لطیفہ سے متعلق کتابوں کے شعبے قائم کیے جا سکتے ہیں۔
نوجوانوں کی نفسیات کو سمجھنا
نسل نو کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی نفسیات کو سمجھا جائے۔ آج کے نوجوان روایتی طریقوں سے زیادہ جدید اور تخلیقی طریقوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہیں فنون لطیفہ سے جوڑنے کے لیے ایسے طریقے اپنانے ہوں گے جو ان کی دلچسپیوں کے مطابق ہوں۔ مثال کے طور پر، سٹریٹ آرٹ، ڈیجیٹل میوزک، اور جدید رقص جیسی شکلیں نوجوانوں کو زیادہ متوجہ کر سکتی ہیں۔
بین الشعباتی ربط
فنون لطیفہ کو دیگر شعبوں کے ساتھ مربوط کر کے بھی نئی نسل کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، سائنس اور آرٹ کے ملاپ سے پیدا ہونے والی نئی شکلیں، کاروبار اور فنون لطیفہ کے باہمی تعلق، اور ٹیکنالوجی اور آرٹ کے امتزاج سے بننے والی نئی جہتیں نوجوانوں کے لیے دلچسپی کا باعث بن سکتی ہیں۔
عملی اقدامات
نسل نو کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:
1. اسکولوں اور کالجوں میں فنون لطیفہ کے کلابز قائم کرنا
2. فنون لطیفہ کے مقابلوں کا انعقاد اور انعامات کا اہتمام
3. مقامی فنکاروں کے ساتھ نوجوانوں کے تعامل کے مواقع پیدا کرنا
4. فنون لطیفہ کی ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد
5. فنون لطیفہ سے متعلق آن لائن پلیٹ فارمز کا قیام
6. فنون لطیفہ کو روزگار سے جوڑنے کے مواقع پیدا کرنا

نسل نو کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نوجوانوں کی نفسیات، ان کے رجحانات اور جدید تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب حکمت عملی تیار کریں۔ فنون لطیفہ انسان کی بنیادی ضرورت ہیں جو اسے مکمل انسان بناتی ہیں۔ انہیں نظر انداز کر کے ہم نہ صرف اپنی تہذیبی روایات سے دور ہو رہے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو ان کی روحانی غذا سے محروم کر رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر کوشش کریں کہ نئی نسل کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ہماری تہذیب و ثقافت کی شاندار روایات آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں