فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)کے سابق نائب صدر اور اٹک چیمبر آف کامرس کے بانی صدر مرزا عبدالرحمن نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے مختلف فیسوں میں سو فیصد اضافہ کو مسترد کرتے ہیں ۔ اخراجات میں کمی کے بجائے انھیں بڑھایا جا رہا ہے جسے پہورا کرنے کے لئے تاضروں اور صنعتکاروں کو ہدف بنایا جا رہا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ مرزا عبدالرحمان نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایف پی سی سی آئی فیس کے ڈھانچے میں ایک سو فیصد اضافہ سے تجارتی انجمنوں اور تاجر برادری کے ارکان پر اضافی بوجھ پڑے گا۔یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ بزنس گروپ(یو بی جی)نے ایف پی سی سی آئی میں پانچ سال کے وقفے کے بعد دوبارہ اقتدار سنبھالا ہے کیونکہ ووٹرز نے اسے ناقص کارکردگی کی وجہ سے مسترد کر دیا تھا۔مگر اقتدار سنبھالنے کے بعد وہی کام شروع کر دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے انھیں مسترد کیا گیا تھا جو افسوسناک ہے۔وسائل کے ضیاں، غیر قانونی تقرریوں اور دیگر متنازعہ اقدامات کے براہ راست ذمہ دار ایف پی سی سی آئی کے صدر ہیں۔مرزا عبدالرحمن نے تمام چیمبرز آف کامرس اور تجارتی انجمنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اقدام پر احتجاج کریں، کیونکہ یہ ان کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بزنس مین پینل نے اقتدار میں آتے ہی سالانہ فیسوں میں کمی کی لیکن یو بی جی نے ان میں اضافہ کر ڈالا ہے۔ تاجر رہنما نے کہا کہ بزنس کونسلز، سٹینڈنگ کمیٹیوں، ویزا سفارشات اور سارک ویزا پروسیسنگ کی فیس دگنی کر دی گئی ہے جسے واپس لیا جائے۔
ایف پی سی سی آئی کی فیسوں میں 100 فیصد اضافہ غیر منصفانہ ہے،مرزاعبدالرحمن
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
