گوئٹے کے دیس
میں۔۔۔۔۔سرور غزالی۔۔۔
جرمنی میں 23 فروری 2025 کو انتخابات منعقد ہوگئے اور اب اس کے نتائج بھی سامنے آچکے ہیں۔ جرمنی کے ان انتخابات، جو کہ ایک تاریخی انتخابات کا عنوان لیے ہوئے تھے، کے حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت کا حامل رہے کہ جرمنی میں پہلی مرتبہ 84 فیصد افراد نے اس میں حصہ لیا۔ اتنی بڑی تعداد میں اس سے پہلے کبھی بھی لوگوں نے جرمنی کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا اور اس میں کثیر تعداد کی شرکت ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ انتخابات جرمنی کی قسمت کے فیصلے کے لیے کتنے ضروری تھے انتخابات سے قبل بھی جو لب و لہجہ سیاست دانوں نے اختیار کیا تھا تاریخی طور پر اسے بھی گفتگو میں پیش نظر رکھنا ضروری ہے چونکہ اس سے قبل جرمنی میں کبھی بھی سیاست دان ایک دوسرے پر اس طریقے سے الزامات تہمت اور ایک دوسرے کی پالیسیوں کے خلاف باتیں، اس لب و لہجے میں نہیں کرتے نظر ائے تھے۔ جرمنی کے انتخابات، جنگ عظیم دوم کے بعد ایڈ یناور اور ولی برانڈ، ہیلمٹ شمڈٹ، ہیلمٹ کوہل جیسے عظیم رہنماؤں کی تاریخ سے رقم ہے جس میں جرمنی کو جنگ عظیم دوم کے بعد ایک نیا شعور دیا گیا نئی سیاسی راہ پر گامزن کیا گیا انہیں نئی قوم کے طور پر ابھارنے اور دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داریاں ان سیاستدانوں نے سنبھالیں اور اس میں کامیاب بھی رہے جرمنی دنیا میں ایک نئی شعوری طاقت بن کر ابھرا ایک ایسی سیاسی اور معاشی طاقت کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش ہوا جو اپنی الگ مثال رکھتا ہے جسے ماضی سے کسی طریقے سے نہیں جوڑا جا سکتا ہے۔ انتخابات 2025 اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں کہ انہی بڑی پارٹیوں کو، جنہوں نے اس ملک کو بنایا نکھارا اور آج دنیا کے سامنے معاشی قوت کے طور پر پیش کیا عوام نے، بالخصوص سابقہ مشرقی جرمنی کے عوام نے رد کر دیا۔ انتخابات کے نتیجے میں ملک کی بڑی شوشل ڈیموکریٹک پارٹی اپنی تاریخی ناکامی سے دوچار ہوئی۔ جبکہ دوسری بڑی پارٹی سی ڈی یو بھی انتخاب جیتنے کے باوجود وہ کامیابی نہیں حاصل کر سکی جس کی امید کی جا رہی تھیں۔ اس انتخاب میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ عوام کی اکثریت نے جرمنی کی جنگ کی پالیسی میں یوکرین کی مدد کو بھی رد کر دیا ہے پرانے سیاست دانوں کی پالیسیوں سے انہیں شدید اختلاف ہے، جنگ کا ساتھ دینے والی تمام پارٹیاں اس انتخابی جنگ میں ہار چکی ہیں ایک اور بات جو اس انتخاب کے نتیجے میں سامنے آئی ہے وہ جرمنی میں جنگ عظیم دوم سے قبل کی سوچ رکھنے والے پارٹی یعنی انتہا پسند دائیں بازو کی پارٹی کا ابھر کر سامنے آنا۔ اس پارٹی نے پچھلے انتخابات کے مقابلے میں اس دفعہ دگنے ووٹ یعنی 20 فیصد ووٹ حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جرمنی بالخصوص مشرقی جرمنی کے لوگ یہاں انے والے سیاسی پناہ گزین اور غیر ملکی افراد کو برداشت کرنے کے خواہاں نہیں ہیں وہ یوکرین کی جنگ میں شمولیت کو رد کرتے ہیں اور وہ روس کے ساتھ توانائی اور دیگر شعبے کے تعلقات کو بحال کرنے کے خواہاں ہیں اس تاریخی انتخابات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک طرف روس پر الزامات تو یہ لگائے جا رہے ہیں کہ روس نے یہاں کی پارٹیوں کی مدد کررہا ہے اور یہاں کے انتخابات میں کسی طریقے سے اثر انداز ہورہا ہے مگر درحقیقت ایلون ماسک اور نائب صدر وینز نے کھلے عام یہاں آکر انتخابات میں انتہا پسند دائیں بازوں کی پارٹی کی انتخابی سرگرمی کو بڑھاوا دیا ہے اور وطن واپس جا کر نائب صدر وینز کا یہ کہنا کہ امریکی عوام اپنے ٹیکس جرمنی کی حفاظت میں اس لیے نہیں خرچ کرتے کہ جرمنی کی عدالتیں اور سیاسی پارٹیاں جمہوریت کے لیے مشکلات کھڑی کریں۔ امریکی سیاست دانوں کے اس طرح سے براہ راست قبل از انتخابات، بیانات نے انتخابات میں نہ صرف مداخلت کو ہوا دی بلکہ عوام کے اندر شدید بے چینی اور خوف و ہراس پھیلایا اس لحاظ سے یہ انتخابات جرمنی کے ایک خوف زدہ ماحول میں منعقد ہوا لیکن جرمنی کے عوام نے 84 فیصد کی تعداد میں شرکت کر کے یہ بات ثابت کر دیا کہ وہ اپنے معاملات خود اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں گو کہ دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی کو 20 فیصد ووٹ ملے ہیں لیکن دیگر 80 فیصد عوام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس سوچ کے حامل نہیں ہیں اور عوام کی اکثریت اس 20 فیصد انتہا پسند سوچ کی کو رد کرتی ہے۔ ایس پی ڈی پارٹی کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ ایک بڑی پارٹی کی حیثیت سے، کس طریقے سے دوبارہ اس ملک میں اپنی جگہ بنا کر اپنی ساکھ بحال کرسکتی ہے اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو ایک بار پھر سے درست سمت میں لے جائے اور نوجوان سیاست دانوں کو سیاسی قیادت سونپے۔ انتخابات میں سی ڈی یو اور سی ایس یو پارٹی نے مل کر 28 فیصد ووٹ لیے ہیں جبکہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو 16 فیصد ووٹ ملے ہیں اور بائیں بازو سرخ پارٹی کو اٹھ فیصد ووٹ ملے ہیں اسی طرح سے انتہا پسند دائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی کو 20 فیصد ووٹ ملے۔ اگر انتخابات کے نتائج پہ غور کیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ درحقیقت، انتخابات میں یہ مقابلہ انتہا پسند دائیں بازو کی پارٹی اور بائیں بازو کی سرخ پارٹی کے مابین ہی ہوا ہے۔ جس میں انتہا پسند دائیں بازو کو کامیابی ضرور حاصل ہوئی ہے لیکن سرخ پارٹی نے بھی بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے جو کہ ایک خوش ائند بات ہے گو کہ اس وقت دنیا پر ایک بار پھر سے فاشزم کے عقاب اپنے پنجے گاڑ رہے ہیں۔ مگر توقع ہے کہ نئے چانسلر میرز، سی ڈی یو کے رہنما، انتخابات جیت کر ملک کو معاشی خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ ان کی شخصیت ایک جارحانہ گفتگو کرنے والے سیاست دان کی سی ہے جو کہ معاشی طور پر بھی ملک کو درست سمت میں لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے انتہا پسند دائیں بازو، فاشست پارٹی کو صاف جواب دے دیا ہے کہ ہم اپنی 75 سالہ روایت کو نہیں بدلیں گے بلکہ اس ملک کے لیے اور بہتر راستے نکالیں گے اور اس کو معاشی بحران سے نکال کر رہیں گے ۔ اگر جرمنی ان کی قیادت میں آئندہ چار سالوں میں معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا تو انتہا پسند دائیں بازو کی موجودہ صورتحال کو بھی یکسر بدل دے گا اور دوسری جانب امریکہ میں بھی ‘ڈونلڈ ٹرمپ اینڈ کو’ کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہوگا تو اس صورت میں براہ راست جرمنی کے سیاسی معاملات اور انتخابات میں مداخلت میں کمی ائے گی اور کسی خود رو پودے کی طرح پروان چڑھنے والی دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی اے ایف ڈے اپنی موت آپ مر جائے گی۔
نئے چانسلر کے میرز کی نامزدگی کے لیے جلد ہی گفتگو کا اغاز ہوگا اور چانسلر میرز دیگر پارٹیوں کو حکومت میں شمولیت کی شرائط دیں گے اور اس طریقے سے نئی حکومت کا جلد تشکیل پانا ممکن ہوگا
انتخابات میں جرمنی کے عوام نے ایک نئی تاریخ رقم کردی
