امریکا میں ماریجوانا کی تاریخ، معاشرتی قبولیت اور صدر ٹرمپ کا کردار …. حمیرا گل تشنہ

ماریجوانا (گانجہ) امریکا میں ایک متنازعہ اور پیچیدہ موضوع رہا ہے جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ یہ پودا نہ صرف طبی، معاشی اور معاشرتی حلقوں میں زیر بحث رہا بلکہ قانونی نظام کی ترقی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
ماریجوانا امریکا میں کولمبس سے پہلے کے زمانے سے موجود رہا ہے۔ قدیم مقامی امریکی قبائل نے اسے روحانی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، جدید امریکی تاریخ میں اس کی کہانی 16ویں صدی میں شروع ہوتی ہے جب یورپی مہاجرین ہیمپ (بھنگ) کی کاشت لائے، جو ماریجوانا ہی کی ایک قسم ہے، جسے رسیاں، کپڑے اور کاغذ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
19ویں صدی میں، ماریجوانا کو عام طور پر ادویات کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور یہ فارمیسیوں میں دستیاب تھا۔ اسے درد، بے خوابی اور متلی جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے تجویز کیا جاتا تھا۔ 20ویں صدی کے آغاز تک، ماریجوانا کا استعمال نسبتاً غیر متنازعہ تھا۔
صورت حال 1910 سے 1930 کے درمیان بدلی، جب میکسیکو سے ہونے والی بڑی پیمانے پر ہجرت کے نتیجے میں امریکی معاشرے میں “ریکر میری جین” کا تعارف ہوا۔ اس وقت نسل پرستانہ تعصبات نے ماریجوانا کے خلاف مہم کو ہوا دی، جسے میکسیکن تارکین وطن اور افریقی امریکی کمیونٹیز سے جوڑ کر دیکھا جاتا تھا۔
1937 میں “ماریجوانا ٹیکس ایکٹ” نے پہلی بار وفاقی سطح پر ماریجوانا کو غیر قانونی قرار دیا۔ اس قانون سازی کے پیچھے ہیری اینسلنگر، فیڈرل بیورو آف نارکوٹکس کے سربراہ، کی مہم تھی جنہوں نے ماریجوانا کو تشدد اور جنون سے جوڑنے والی پروپیگنڈا مہم چلائی۔ اس کے بعد 1970 میں “کنٹرولڈ سبسٹینس ایکٹ” آیا، جس نے ماریجوانا کو شیڈول I ڈرگ کے طور پر درجہ بندی کیا، جو ہیروئن کے برابر خطرناک سمجھا گیا، حالانکہ اس کی طبی افادیت کے شواہد موجود تھے۔
1970 کی دہائی میں صدر رچرڈ نکسون نے “منشیات کے خلاف جنگ” کا اعلان کیا، جس نے ماریجوانا کے خلاف سخت اقدامات کو مزید تقویت دی۔ اس پالیسی نے نہ صرف ماریجوانا کے استعمال کو جرم قرار دیا بلکہ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد خصوصاً اقلیتی گروہوں کو گرفتار کیا گیا۔ 1980 کی دہائی میں صدر رونالڈ ریگن کے دور میں اس جنگ میں اور شدت آئی، جس میں ماندیل کے کم از کم سزائیں قوانین متعارف کرائے گئے، جن کے تحت ماریجوانا کے استعمال پر طویل قید کی سزائیں دی جانے لگیں۔
تاہم، 1990 کی دہائی میں معاشرتی رویوں میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ کیلیفورنیا نے 1996 میں پہلی بار طبی مقاصد کے لیے ماریجوانا کے استعمال کو قانونی قرار دیا۔ یہ فیصلہ ایڈز اور کینسر کے مریضوں کی تکالیف کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ اس کے بعد دیگر ریاستیں بھی اس راستے پر چل پڑیں۔
21ویں صدی میں ماریجوانا کے حوالے سے امریکی عوامی رائے میں ڈرامائی تبدیلی آئی۔ 2012 میں کولوراڈو اور واشنگٹن نے تفریحی مقاصد کے لیے ماریجوانا کو قانونی قرار دینے والی پہلی ریاستیں بنیں۔ اس کے بعد سے، متعدد دیگر ریاستوں نے بھی اسی راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا۔
آج، 37 ریاستوں نے کسی نہ کسی شکل میں طبی ماریجوانا کو قانونی قرار دے دیا ہے، جبکہ 18 ریاستوں نے تفریحی استعمال کے لیے اسے قانونی بنا دیا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے معاشی، سماجی اور طبی عوامل کارفرما ہیں:
معاشی فوائد: ماریجوانا کی قانونی صنعت نے ہزاروں نوکریاں پیدا کی ہیں اور ریاستی حکومتوں کو ٹیکس ریونیو میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔
طبی فوائد: متعدد مطالعات نے ماریجوانا کے طبی فوائد کو ثابت کیا ہے، خاص طور پر درد، متلی، مرگی اور پی ٹی ایس ڈی جیسے حالات کے علاج میں۔
نسلی انصاف: ماریجوانا کے خلاف جنگ کے نتیجے میں غیر متناسب طور پر اقلیتی آبادی متاثر ہوئی، اور قانونی کاری اس عدم مساوات کو دور کرنے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
عوامی رائے میں تبدیلی: گیلپ پول کے مطابق، 2021 میں 68% امریکیوں نے ماریجوانا کی مکمل قانونی کاری کی حمایت کی، جو 1969 میں محض 12% تھی۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماریجوانا کے معاملے پر ایک متنازعہ اور بعض اوقات متضاد موقف اختیار کیا۔ 2016 کے انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ماریجوانا کو قانونی بنانے کا فیصلہ ریاستوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے طبی ماریجوانا کی حمایت کا اظہار کیا لیکن تفریحی استعمال کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا۔
پہلا، جیف سیشنز کا تقرر: ٹرمپ نے جیف سیشنز کو اٹارنی جنرل مقرر کیا، جو ماریجوانا کے سخت خلاف تھے۔ سیشنز نے اوباما دور کی “کول میمو” کو ختم کر دیا، جس نے وفاقی سطح پر ان ریاستوں میں ماریجوانا کے خلاف کارروائی سے گریز کیا تھا جہاں یہ قانونی تھا۔
FIRST STEP ادوسرا، ایکٹ: 2018 میں، ٹرمپ نے اس قانون پر دستخط کیے جس نے ماریجوانا سے متعلقہ بعض جرائم کی سزاؤں میں کمی کی راہ ہموار کی۔ یہ اقدام دو جماعتی حمایت کا حامل تھا۔
تیسرا، تحقیقی زرعی بل 2018: ٹرمپ نے ہیمپ (بھنگ) کو کنٹرولڈ سبسٹینس ایکٹ کی فہرست سے ہٹانے والے بل پر دستخط کیے، جس سے اس کی کاشت اور تحقیق کو قانونی حیثیت مل گئی۔
ٹرمپ نے اکثر کہا کہ وہ ریاستوں کو یہ حق دینے کے حق میں ہیں کہ وہ اپنی ماریجوانا پالیسیاں خود طے کریں، لیکن انہوں نے وفاقی سطح پر مکمل قانونی کاری کی حمایت نہیں کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر نوجوانوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے۔
موجودہ دور میں ماریجوانا کا معاملہ امریکی سیاست میں اہم مقام رکھتا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے ماریجوانا سے متعلقہ سزاؤں میں نرمی، ریاستی حقوق کا احترام اور ممکنہ طور پر وفاقی سطح پر قانونی کاری کے وعدے کیے تھے۔
وفاقی اور ریاستی قوانین کے درمیان تضاد ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ریاستی سطح پر قانونی ہونے کے باوجود، وفاقی قانون کے تحت ماریجوانا اب بھی غیر قانونی ہے، جس کے نتیجے میں بینکاری، تحقیقات اور بین ریاستی تجارت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
پہلا، وفاقی سطح پر قانونی کاری: کانگریس کے ذریعے ماریجوانا کو کنٹرولڈ سبسٹینس ایکٹ کی فہرست سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
دوسرا، ریاستی حقوق کا تحفظ: ریاستوں کو مکمل اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے قوانین خود بنائیں۔
تیسرا، حالتِ موجودہ کا تسلسل: وفاقی اور ریاستی قوانین کے درمیان تضاد برقرار رہ سکتا ہے۔
امریکا میں ماریجوانا کی تاریخ معاشرتی رویوں، سیاسی رجحانات اور قانونی نظام کے باہمی تعامل کی عکاس ہے۔ ابتدائی قبولیت سے لے کر سخت ممنوعیت اور پھر آہستہ آہستہ قانونی کاری کی طرف سفر نے امریکی جمہوریت کی لچک اور تبدیلی کی صلاحیت کو ظاہر کیا ہے۔
سابق صدر ٹرمپ کا کردار اس سلسلے میں اہم رہا ہے، جنہوں نے ریاستی حقوق کے اصول کو تقویت دی لیکن وفاقی سطح پر قانونی کاری کی طرف واضح قدم نہیں اٹھایا۔ ان کی پالیسیوں نے ماریجوانا کی صنعت کو ترقی دینے میں مدد کی، لیکن وفاقی قانون میں بنیادی تبدیلیوں سے گریز کیا گیا۔
لیکن اب 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے وفاقی سطح پر ماریجوانا کی ازسرنہ درجہ بندی کے عمل میں تیزی لانے کا حکم دیا ہے، جو کینابیس صنعت کی جانب سے شدید لابنگ کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ اقدام وفاقی قانون میں ماریجوانا کی موجودہ درجہ بندی میں تاریخی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ ایگزیکٹو آرڈر منشیات کے خلاف جنگ کی پالیسیوں میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس حکم نامے کے تحت:
1) ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کنٹرولڈ سبسٹینسز ایکٹ کے تحت ماریجوانا کی موجودہ درجہ بندی (شیڈول I منشیات) پر ازسرنہ غور کرے۔
2) صحت اور انسانی خدمات کے محکمے (HHS) اور عدلیہ کے محکمے کو عمل میں تیزی لانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
3) 90 دن کے اندر تجاویز پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو عام طور پر سالوں تک جاری رہنے والے عمل کو تیز کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ٹرمپ کا یہ فیصلہ ماریجوانا کے حوالے سے امریکی پالیسی میں ایک اہم موڑ ہے۔ اگرچہ یہ مکمل وفاقی قانونی کاری نہیں ہے، لیکن یہ درجہ بندی میں تبدیلی لاکھوں امریکیوں کے لیے جو قانونی طور پر ماریجوانا استعمال کر رہے ہیں اور اربوں ڈالر کی صنعت کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے۔
ماریجوانا کی قانونی کاری کا سفر صرف ایک پودے کے حوالے سے نہیں، بلکہ سماجی انصاف، معاشی ترقی، طبی تحقیق اور فرد کی آزادی کے بارے میں وسیع تر سوالات سے متعلق ہے۔ جیسے جیسے مزید ریاستیں ماریجوانا کو قانونی شکل دیتی جائیں گی، وفاقی سطح پر اصلاحات کا دباؤ بڑھتا جائے گا۔ امریکا میں ماریجوانا کی کہانی ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جو اپنے ماضی کے فیصلوں پر نظرثانی کر رہی ہے اور نئے سماجی معاہدے کی تشکیل کی کوشش کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں