افریقہ میں جے ایف۔17 تھنڈر کی بڑھتی ہوئی مانگ’….. شیخ راشد عالم

دنیا کی بدلتی ہوئی عسکری سیاست میں وہ ممالک تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں جو کم لاگت میں زیادہ کارکردگی دینے والے ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کا جے ایف-17 تھنڈر اسی رجحان کی سب سے کامیاب مثال بنتا جا رہا ہے۔ حیران کن طور پر یہ طیارہ صرف جنوبی ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب افریقہ کے ممالک میں اس کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیچھے محض کم قیمت نہیں، بلکہ وہ حقیقت ہے کہ افریقی ایئر فورسز جدید مگر قابلِ برداشت ٹیکنالوجی کی تلاش میں ہیں، اور جے ایف-17 ان کی ضرورت پوری کرنے کی حقیقی صلاحیت رکھتا ہے۔

براعظم افریقہ کی عسکری ضروریات باقی خطوں سے مختلف ہیں۔ یہاں متعدد ممالک داخلی تنازعات، سرحدی کشیدگی اور دہشت گرد گروہوں کے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان حالات میں جدید فائٹر جیٹ کی ضرورت تو بہرحال رہتی ہے مگر محدودبجٹ ان کے فیصلوں پر سخت اثر ڈالتا ہے۔ مغربی ممالک کے جدید لڑاکا طیارے عملی طور پر ان کے خریداروں کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں۔ ایف-16 ہو یا رافال، غِریب ملکوں کے لیے ان کا حصول تو دور کی بات، ان کا سالانہ آپریشنل خرچ بھی دیوالیہ کر سکتا ہے۔ ایسے میں جے ایف-17 تھنڈر افریقی ممالک کی فضائیہ کی پہلی ترجیح بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

جے ایف-17 کی سب سے بڑی خوبی اس کی “کاسٹ ایفیشینسی” ہے۔ یعنی ایک ایسے دور میں جب جدید طیاروں کی قیمتیں اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، پاکستان کا تیار کردہ یہ فائٹر جیٹ کم بجٹ میں نہ صرف خریدے جا سکتے ہیں بلکہ اس کے اسپیئر پارٹس اور اپ گریڈ کی لاگت بھی قابلِ برداشت ہے۔ کئی افریقی ممالک کے لیے یہ اہم نکتہ ہے کیونکہ ان کا دفاعی بجٹ بیک وقت زمینی، بحری اور فضائی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔ جے ایف-17 ان کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا وہ دروازہ کھول رہا ہے جو پہلے صرف دولت مند ممالک کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔

افریقہ میں اس طیارے کی کامیابی کا آغاز نائیجیریا سے ہوا، جس نے جے ایف-17 بلاک ٹو طیارے خرید کر پاکستانی دفاعی صنعت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ فیصلہ صرف خریداری نہیں تھا بلکہ خطے میں ایک سیکیورٹی میسج بھی تھا کہ نائیجیریا اپنی فضائی قوت کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے۔ نائیجیریا کے بعد زمبابوے اور آذربائیجان جیسے ممالک نے دلچسپی دکھائی، جبکہ کئی دوسرے افریقی ممالک نے پاکستان سے تکنیکی بریفنگ اور مشترکہ تعاون کے امکانات پر بات چیت کی ہے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان صرف طیارہ فروخت نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ پائلٹس کی تربیت، تکنیکی معاونت، اور مستقبل میں اپ گریڈیشن کے راستے بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ وہ پیکیج ہے جو مغربی ممالک بہت کم فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کی دفاعی ڈپلومیسی کا یہ پہلو اس کی اصل طاقت بنتا جا رہا ہے۔ اس تعاون سے نہ صرف پاکستان کا امیج مضبوط ہو رہا ہے بلکہ دفاعی صنعت میں بیرونی سرمایہ اور نئے معاہدوں کے امکانات بھی روشن ہو رہے ہیں۔

جے ایف-17 کی مضبوط شہرت کی ایک اور وجہ اس کی جدید ٹیکنالوجی ہے۔ بلاک تھری ورژن میں AESA ریڈار، جدید میزائل سسٹمز اور بہتر اسٹیلتھ خصوصیات شامل ہیں۔ یہ وہ فیچرز ہیں جو کسی بھی فضائیہ کی طاقت میں حقیقی اضافہ کرتے ہیں۔ جن ممالک نے ماضی میں قدیم روسی یا چینی طیاروں پر انحصار کیا، ان کے لیے جے ایف-17 جدید دور میں قدم رکھنے کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔

افریقہ کی فضائیہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں بڑی طاقتیں اپنے ہتھیار فروخت تو کرتی ہیں مگر اس کے ساتھ بے شمار شرائط اور پابندیاں بھی منسلک ہوتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ معاملہ سادہ، دوطرفہ اور برابری کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ نہ کوئی سیاسی دباؤ، نہ کوئی غیر ضروری شرط۔ اسی لیے افریقی حکومتیں پاکستانی مصنوعات پر زیادہ اعتماد دکھا رہی ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال نہ صرف معاشی فائدے کا باعث ہے بلکہ اسے عالمی اسلحہ مارکیٹ میں ایک نمایاں مقام بھی دلوا رہی ہے۔ دفاعی صنعت کسی بھی ملک کی ٹیکنالوجیکل برتری، انجنئیرنگ کی صلاحیت اور بین الاقوامی اعتماد کی عکاس ہوتی ہے۔ اگر پاکستان آنے والے برسوں میں جے ایف-17 بلاک تھری کی پیداواری صلاحیت بڑھا لیتا ہے تو یہ صرف افریقہ نہیں، بلکہ پوری ایشین اور لاطینی امریکی مارکیٹ میں بھی اپنا حصہ مزید بڑھا سکتا ہے۔

افریقہ میں جے ایف-17 کی مانگ بڑھنے سے پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج بھی کھڑا ہو رہا ہے دنیا بھر میں تکنیکی دوڑ تیز ہے اور ہر سال نئے سسٹم سامنے آ رہے ہیں۔ اگر پاکستان نے اس دوڑ میں اپنا مقام مستحکم رکھنا ہے تو اسے تحقیق اور جدت پر زیادہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ جے ایف-17 کی کامیابی کو بنیاد بنا کر پاکستان اگلے مرحلے کے لیے “جے ایف-17 بلاک فور” یا اس سے بھی جدیدطیارے کی تیاری کا سوچ سکتا ہے۔

آخر میں، افریقہ میں جے ایف-17 کی بڑھتی ہوئی مانگ یہ طے کر رہی ہے کہ پاکستان اب صرف دفاعی خریدار نہیں، بلکہ عالمی اسلحہ مارکیٹ کا ایک سنجیدہ سپلائر بھی ہے۔ یہ قومی معیشت کے لیے خوشخبری ہے، دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے اور ملکی سفارتکاری کے لیے ایک بڑی کامیابی۔ آنے والے برسوں میں بلاشبہ جے ایف-17 پاکستان کا وہ سفیر بن سکتا ہے جو دنیا بھر میں ہماری تکنیکی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا پیغام لے کر جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں